تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

امریکا میں گرین لینڈ کی خریداری پر سنجیدہ غور، وائٹ ہاس نے تصدیق کر دی

امریکا میں گرین لینڈ کی خریداری پر سنجیدہ غور، وائٹ ہاس نے تصدیق کر دی

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ گرین لینڈ کی ممکنہ خریداری کے معاملے پر باضابطہ طور پر غور کر رہی ہے، جس کی تصدیق وائٹ ہاس کی جانب سے کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ موضوع امریکی پالیسی حلقوں میں زیرِ بحث ہے۔گرین لینڈ، جو دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، اپنی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت اور قدرتی وسائل کی وجہ سے عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسی اہمیت کے پیش نظر امریکا اس امکان کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا گرین لینڈ کو ڈنمارک سے خریدنے کا کوئی قابلِ عمل راستہ موجود ہے یا نہیں۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق امریکا ڈنمارک کے ساتھ اس معاملے پر ابتدائی سطح پر بات چیت میں دلچسپی رکھتا ہے۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی حکام گرین لینڈ کے شہریوں کو ممکنہ طور پر مالی مراعات دینے کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں، تاکہ ان کے معاشی مستقبل کو بہتر بنایا جا سکے اور کسی ممکنہ انتظامی تبدیلی کی صورت میں سہولت فراہم کی جا سکے۔حکام نے واضح کیا ہے کہ فی الحال کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم عالمی سطح پر اس تجویز پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں، جبکہ ڈنمارک کی جانب سے ایسے کسی بھی اقدام پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔