تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے نوبیل امن انعام کا تمغہ صدر ٹرمپ کو پیش کر دیا

وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے نوبیل امن انعام کا تمغہ صدر ٹرمپ کو پیش کر دیا

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران اپنا نوبیل امن انعام کا تمغہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کیا، جسے صدر ٹرمپ نے قبول کر لیا۔وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق صدر ٹرمپ اس تمغے کو اپنے پاس رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ماریا کورینا ماچاڈو نے ان کی خدمات کے اعتراف میں یہ تمغہ پیش کیا، جو باہمی احترام اور قدردانی کی علامت ہے۔ماریا کورینا ماچاڈو نے ملاقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تحفہ وینزویلا کے عوام کی آزادی کے لیے صدر ٹرمپ کے کردار کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ تاہم ناروے کے نوبیل انسٹی ٹیوٹ نے واضح کیا ہے کہ نوبیل انعام قانونی طور پر منتقل، تقسیم یا واپس نہیں کیا جا سکتا اور یہ اعزاز بدستور ماچاڈو ہی کے نام سے منسوب رہے گا۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب صدر ٹرمپ نے اس امکان کو مسترد کیا تھا کہ ماریا کورینا ماچاڈو کو وینزویلا کی قیادت سونپی جائے۔ صدر ٹرمپ ماضی میں نوبیل امن انعام حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں اور ماچاڈو کو گزشتہ ماہ یہ اعزاز ملنے پر مایوسی کا اظہار بھی کیا تھا۔یہ دونوں رہنماؤں کی پہلی براہِ راست ملاقات تھی، جس کے بعد ماریا کورینا ماچاڈو نے امریکی کانگریس کے ارکان سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق صدر ٹرمپ ماچاڈو سے ملاقات کے خواہشمند تھے، تاہم وہ اب بھی اس مؤقف پر قائم ہیں کہ فی الحال ماچاڈو کے پاس وینزویلا کی قیادت کے لیے درکار حمایت موجود نہیں۔