تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے نوبیل امن انعام کا تمغہ صدر ٹرمپ کو پیش کر دیا

وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے نوبیل امن انعام کا تمغہ صدر ٹرمپ کو پیش کر دیا

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران اپنا نوبیل امن انعام کا تمغہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کیا، جسے صدر ٹرمپ نے قبول کر لیا۔وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق صدر ٹرمپ اس تمغے کو اپنے پاس رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ماریا کورینا ماچاڈو نے ان کی خدمات کے اعتراف میں یہ تمغہ پیش کیا، جو باہمی احترام اور قدردانی کی علامت ہے۔ماریا کورینا ماچاڈو نے ملاقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تحفہ وینزویلا کے عوام کی آزادی کے لیے صدر ٹرمپ کے کردار کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ تاہم ناروے کے نوبیل انسٹی ٹیوٹ نے واضح کیا ہے کہ نوبیل انعام قانونی طور پر منتقل، تقسیم یا واپس نہیں کیا جا سکتا اور یہ اعزاز بدستور ماچاڈو ہی کے نام سے منسوب رہے گا۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب صدر ٹرمپ نے اس امکان کو مسترد کیا تھا کہ ماریا کورینا ماچاڈو کو وینزویلا کی قیادت سونپی جائے۔ صدر ٹرمپ ماضی میں نوبیل امن انعام حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں اور ماچاڈو کو گزشتہ ماہ یہ اعزاز ملنے پر مایوسی کا اظہار بھی کیا تھا۔یہ دونوں رہنماؤں کی پہلی براہِ راست ملاقات تھی، جس کے بعد ماریا کورینا ماچاڈو نے امریکی کانگریس کے ارکان سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق صدر ٹرمپ ماچاڈو سے ملاقات کے خواہشمند تھے، تاہم وہ اب بھی اس مؤقف پر قائم ہیں کہ فی الحال ماچاڈو کے پاس وینزویلا کی قیادت کے لیے درکار حمایت موجود نہیں۔