اسلام آباد( کامرس ڈیسک)پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر 15.28 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ اشیائے خوردونوش اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ بتایا گیا ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق مہنگائی میں اضافے کی نمایاں وجوہات میں پیٹرول کی قیمت میں 44.73 فیصد، ڈیزل میں 44.39 فیصد، بجلی کے نرخوں میں 59.40 فیصد، آٹے کی قیمت میں 58.72 فیصد اور مائع پیٹرولیم گیس میں 52.66 فیصد اضافہ شامل ہے۔ادارے کے مطابق اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی بلند سطح پر برقرار رہیں، جبکہ پیاز، ٹماٹر، آلو، گوشت اور آٹے سمیت کئی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ہفتہ وار بنیاد پر بھی مہنگائی میں 0.46 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے دوران ٹماٹر، آلو، مرغی کا گوشت، واشنگ صابن، گڑ، گوشت اور دیگر اشیاء مہنگی ہوئیں۔دوسری جانب کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی جن میں پیاز، لہسن، کیلے، پیٹرول، مختلف دالیں، آٹا اور ڈیزل شامل ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق سالانہ بنیاد پر سب سے زیادہ مہنگی ہونے والی اشیاء میں پیاز، ٹماٹر، بجلی، آٹا اور ایل پی جی سرفہرست رہیں، جبکہ آلو، انڈے، چینی اور بعض دالوں کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔واضح رہے کہ گزشتہ رات حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا اثر آئندہ ہفتوں کے اعداد و شمار میں ظاہر ہونے کی توقع ہے۔
ہفتہ وار مہنگائی میں 15.28 فیصد اضافہ، اشیائے خورونوش اور توانائی کی قیمتیں مہنگائی کی بڑی وجہ قرار
واپس خبروں پر
Category:
کامرس