تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

ہفتہ وار مہنگائی میں 15.28 فیصد اضافہ، اشیائے خورونوش اور توانائی کی قیمتیں مہنگائی کی بڑی وجہ قرار

ہفتہ وار مہنگائی میں 15.28 فیصد اضافہ، اشیائے خورونوش اور توانائی کی قیمتیں مہنگائی کی بڑی وجہ قرار

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک)پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر 15.28 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ اشیائے خوردونوش اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ بتایا گیا ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق مہنگائی میں اضافے کی نمایاں وجوہات میں پیٹرول کی قیمت میں 44.73 فیصد، ڈیزل میں 44.39 فیصد، بجلی کے نرخوں میں 59.40 فیصد، آٹے کی قیمت میں 58.72 فیصد اور مائع پیٹرولیم گیس میں 52.66 فیصد اضافہ شامل ہے۔ادارے کے مطابق اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی بلند سطح پر برقرار رہیں، جبکہ پیاز، ٹماٹر، آلو، گوشت اور آٹے سمیت کئی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ہفتہ وار بنیاد پر بھی مہنگائی میں 0.46 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے دوران ٹماٹر، آلو، مرغی کا گوشت، واشنگ صابن، گڑ، گوشت اور دیگر اشیاء مہنگی ہوئیں۔دوسری جانب کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی جن میں پیاز، لہسن، کیلے، پیٹرول، مختلف دالیں، آٹا اور ڈیزل شامل ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق سالانہ بنیاد پر سب سے زیادہ مہنگی ہونے والی اشیاء میں پیاز، ٹماٹر، بجلی، آٹا اور ایل پی جی سرفہرست رہیں، جبکہ آلو، انڈے، چینی اور بعض دالوں کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔واضح رہے کہ گزشتہ رات حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا اثر آئندہ ہفتوں کے اعداد و شمار میں ظاہر ہونے کی توقع ہے۔