تازہ ترین
آزاد کشمیر انتخابات: 30 ہزار سرکاری ملازمین نے ووٹ ڈال دیے خیبرپختونخوا میں تعلیمی منصوبوں کی تاخیر، لاگت میں کروڑوں کا اضافہ مون سون تباہی، مختلف علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نقصانات عمران خان سے ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب، سپریم کورٹ کا جیل انتظامیہ کو حکم اگر ایران اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لاتا ہے تو سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے: امریکہ بھارت امریکا تعلقات میں سرد مہری، مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک زور پکڑنے لگی بھارت میں ’کاکروچ تحریک‘ کا احتجاج جاری، پارلیمان مارچ کی تیاری پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا درآمدی بل 16.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا پاکستانی فری لانسرز نے 1.76 ارب ڈالر کما کر نیا ریکارڈ قائم کردیا اسپین اضافی وقت میں ارجنٹینا کو ہرا کر دوسری بار عالمی چیمپئن بن گیا لامین یمال کا ننھے بھائی کے ساتھ جشن سوشل میڈیا پر وائرل لامین یمال اور ٹرمپ کا مصافحہ سوشل میڈیا پر وائرل ورلڈ کپ جیتنے پر اسپین کو 5 کروڑ ڈالر کا انعام
پاکستان خبر

چین نے دنیا کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر تیار کر لیا

چین نے دنیا کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر تیار کر لیا

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین نے دنیا کے سب سے طاقتور سپر کمپیوٹر کا اعزاز دوبارہ اپنے نام کر لیا ہے۔ ’’لائن شائن‘‘ نامی سپر کمپیوٹر نے عالمی ٹاپ 500 درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کرتے ہوئے امریکا کو پیچھے چھوڑ دیا۔اس کامیابی کی نمایاں بات یہ ہے کہ اس سپر کمپیوٹر کی تیاری میں مکمل طور پر مقامی چپس، نیٹ ورکنگ آلات اور سافٹ ویئر استعمال کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل چین نے 2017 میں یہ اعزاز حاصل کیا تھا، تاہم اُس وقت کچھ غیر ملکی پرزہ جات بھی استعمال کیے گئے تھے۔امریکی پابندیوں کے باوجود چین نے مقامی سطح پر تیار کردہ چپس اور سافٹ ویئر کو بروئے کار لا کر اس منصوبے کو مکمل کیا۔ اسے ایک قومی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں بیرونی ہارڈ ویئر کے بغیر بھی نمایاں پیش رفت ممکن ہے۔’’لائن شائن‘‘ کو ہواوے کی چپس، مقامی نیٹ ورکنگ نظام اور چینی سافٹ ویئر کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ عام کمپیوٹروں کے برعکس سپر کمپیوٹر ہزاروں باہم مربوط پروسیسرز پر مشتمل ہوتے ہیں اور پیچیدہ سائنسی و تحقیقی حسابات کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔اس سے قبل امریکی سپر کمپیوٹر ’’ایل کیپٹن‘‘ دنیا کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر تھا، جو تقریباً ڈیڑھ سال تک اس اعزاز کا حامل رہا۔عالمی درجہ بندی میں سپر کمپیوٹروں کی کارکردگی کا اندازہ ایگزا فلاپس کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے۔ چینی سپر کمپیوٹر فی سیکنڈ 2.2 ایگزا فلاپس کی رفتار سے کمپیوٹنگ کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ امریکی ’’ایل کیپٹن‘‘ کی رفتار 1.8 ایگزا فلاپس فی سیکنڈ ہے۔اگرچہ ’’لائن شائن‘‘ میں استعمال ہونے والی چپس انفرادی طور پر امریکی چپس جتنی طاقتور نہیں، تاہم انہیں زیادہ مؤثر انداز میں مربوط کیا گیا ہے۔ البتہ یہ سپر کمپیوٹر زیادہ توانائی استعمال کرتا ہے اور اس کی بجلی کی کھپت 42 میگاواٹ ہے، جو امریکی سپر کمپیوٹر کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد زیادہ بتائی جاتی ہے۔