تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

چین نے دنیا کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر تیار کر لیا

چین نے دنیا کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر تیار کر لیا

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین نے دنیا کے سب سے طاقتور سپر کمپیوٹر کا اعزاز دوبارہ اپنے نام کر لیا ہے۔ ’’لائن شائن‘‘ نامی سپر کمپیوٹر نے عالمی ٹاپ 500 درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کرتے ہوئے امریکا کو پیچھے چھوڑ دیا۔اس کامیابی کی نمایاں بات یہ ہے کہ اس سپر کمپیوٹر کی تیاری میں مکمل طور پر مقامی چپس، نیٹ ورکنگ آلات اور سافٹ ویئر استعمال کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل چین نے 2017 میں یہ اعزاز حاصل کیا تھا، تاہم اُس وقت کچھ غیر ملکی پرزہ جات بھی استعمال کیے گئے تھے۔امریکی پابندیوں کے باوجود چین نے مقامی سطح پر تیار کردہ چپس اور سافٹ ویئر کو بروئے کار لا کر اس منصوبے کو مکمل کیا۔ اسے ایک قومی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں بیرونی ہارڈ ویئر کے بغیر بھی نمایاں پیش رفت ممکن ہے۔’’لائن شائن‘‘ کو ہواوے کی چپس، مقامی نیٹ ورکنگ نظام اور چینی سافٹ ویئر کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ عام کمپیوٹروں کے برعکس سپر کمپیوٹر ہزاروں باہم مربوط پروسیسرز پر مشتمل ہوتے ہیں اور پیچیدہ سائنسی و تحقیقی حسابات کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔اس سے قبل امریکی سپر کمپیوٹر ’’ایل کیپٹن‘‘ دنیا کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر تھا، جو تقریباً ڈیڑھ سال تک اس اعزاز کا حامل رہا۔عالمی درجہ بندی میں سپر کمپیوٹروں کی کارکردگی کا اندازہ ایگزا فلاپس کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے۔ چینی سپر کمپیوٹر فی سیکنڈ 2.2 ایگزا فلاپس کی رفتار سے کمپیوٹنگ کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ امریکی ’’ایل کیپٹن‘‘ کی رفتار 1.8 ایگزا فلاپس فی سیکنڈ ہے۔اگرچہ ’’لائن شائن‘‘ میں استعمال ہونے والی چپس انفرادی طور پر امریکی چپس جتنی طاقتور نہیں، تاہم انہیں زیادہ مؤثر انداز میں مربوط کیا گیا ہے۔ البتہ یہ سپر کمپیوٹر زیادہ توانائی استعمال کرتا ہے اور اس کی بجلی کی کھپت 42 میگاواٹ ہے، جو امریکی سپر کمپیوٹر کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد زیادہ بتائی جاتی ہے۔