تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

بچوں کے تحفظ کے معاملے پر میٹا کی مشکلات بڑھنے کا امکان

بچوں کے تحفظ کے معاملے پر میٹا کی مشکلات بڑھنے کا امکان

برسلز (ویب ڈیسک) یورپی کمیشن بچوں پر سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز کے ممکنہ منفی اثرات کے حوالے سے میٹا کے خلاف جاری تحقیقات کو مزید وسعت دینے پر غور کر رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیقات کا مرکزی مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا فیس بک اور انسٹاگرام میں استعمال ہونے والے ایسے ڈیزائن اور فیچرز، جو صارفین کو طویل وقت تک آن لائن رکھنے میں مدد دیتے ہیں، خاص طور پر کم عمر صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں یا نہیں۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ پیش رفت نابالغ بچوں کے تحفظ سے متعلق ٹیکنالوجی کمپنیوں کے طرزِ عمل پر عالمی سطح پر سخت ضوابط نافذ کرنے کی جانب ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔ یورپی یونین فیس بک اور انسٹاگرام کی ان ڈیزائننگ حکمتِ عملیوں کے بارے میں اپنے ابتدائی نتائج جلد جاری کرنے کی تیاری کر رہی ہے، تاہم حتمی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق یورپی کمیشن آئندہ ماہ ماہرین کے ایک پینل کی سفارشات موصول ہونے کے بعد مزید اقدامات کا فیصلہ کرے گا، جس کے نتیجے میں برطانیہ اور دیگر ممالک کی طرز پر سخت پابندیاں بھی عائد کی جا سکتی ہیں۔فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا کو نوجوانوں کی آن لائن سلامتی اور ذہنی صحت پر ممکنہ اثرات کے باعث طویل عرصے سے تنقید کا سامنا ہے۔ تاہم اس معاملے پر یورپی یونین اور میٹا دونوں نے فی الحال کوئی باضابطہ مؤقف یا تفصیلی بیان جاری نہیں کیا۔میٹا 2024 سے یورپی کمیشن کی جانب سے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت بچوں کو درپیش خطرات سے متعلق سخت قانونی اور ضابطہ جاتی جانچ کا سامنا کر رہی ہے۔دوسری جانب رواں سال مارچ میں لاس اینجلس کی ایک عدالت نے ایک اہم فیصلے میں میٹا اور گوگل کو ایسے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز کی تیاری کے حوالے سے ذمہ دار قرار دیا تھا جنہیں نوجوانوں کے لیے نقصان دہ اور حد سے زیادہ دل چسپی پیدا کرنے والا قرار دیا گیا۔