تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

عالمی موسمیاتی تنظیم کی دنیا بھر میں شدید موسم کی پیشگوئی

عالمی موسمیاتی تنظیم کی دنیا بھر میں شدید موسم کی پیشگوئی

 نیو یارک( مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔ادارے کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیش گوئیوں کے مطابق جون سے اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ شرح 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ال نینو درمیانی شدت کا یا ممکنہ طور پر شدید بھی ہو سکتا ہے۔ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عام طور پر 9 سے 12 ماہ تک جاری رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا ہے کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے، کیونکہ یہ خشک سالی، شدید بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کیا ہے کہ ال نینو ایک سنگین موسمی انتباہ ہے اور اسے ہنگامی صورتحال کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے باعث اس کے اثرات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ ہونے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشوں میں کمی، جنوبی ایشیا میں کمزور مون سون جبکہ وسطی امریکہ میں گرم اور خشک موسم متوقع ہے۔ماہرین کے مطابق ال نینو کے اثرات زراعت، آبی ذخائر، توانائی کے نظام اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اس لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو فوری اور پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔