نیو یارک( مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔ادارے کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیش گوئیوں کے مطابق جون سے اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ شرح 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ال نینو درمیانی شدت کا یا ممکنہ طور پر شدید بھی ہو سکتا ہے۔ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عام طور پر 9 سے 12 ماہ تک جاری رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا ہے کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے، کیونکہ یہ خشک سالی، شدید بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کیا ہے کہ ال نینو ایک سنگین موسمی انتباہ ہے اور اسے ہنگامی صورتحال کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے باعث اس کے اثرات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ ہونے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشوں میں کمی، جنوبی ایشیا میں کمزور مون سون جبکہ وسطی امریکہ میں گرم اور خشک موسم متوقع ہے۔ماہرین کے مطابق ال نینو کے اثرات زراعت، آبی ذخائر، توانائی کے نظام اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اس لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو فوری اور پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔