تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ بھارت میں ویزا مسائل کے باعث غیر یقینی

ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ بھارت میں ویزا مسائل کے باعث غیر یقینی

نئی دہلی( سپورٹس ڈیسک)رواں برس نومبر میں بھارت میں شیڈول ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ ویزا مسائل کے باعث غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہے۔انٹرنیشنل بلیئرڈز اینڈ اسنوکر فیڈریشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزے جاری نہ کیے گئے تو ایونٹ کی میزبانی بھارت سے واپس لی جا سکتی ہے۔پاکستان بلیئرڈ اینڈ اسنوکر ایسوسی ایشن کے سربراہ عبدالقادر نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ اگر پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزے نہ ملے تو ٹورنامنٹ کسی اور ملک منتقل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2024 میں بھی اسی نوعیت کے ویزا مسائل کے باعث پاکستانی کھلاڑی ایک بڑے ایونٹ میں شرکت سے محروم رہے تھے۔یہ چیمپئن شپ اسنوکر کے اہم ترین مقابلوں میں شمار ہوتی ہے، جس میں ایشیا سمیت مختلف خطوں کے نامور کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔ حال ہی میں پاکستانی کھلاڑی محمد آصف اور عرفان نے ایشین اسنوکر چیمپئن شپ کے پری کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کر کے ملک کا نام روشن کیا۔عبدالقادر کا کہنا ہے کہ ویزوں کے اجرا کے بعد حکومتِ پاکستان کی ہدایات کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو یہ نہ صرف بھارت کی ساکھ کو متاثر کرے گا بلکہ کھیل اور سیاست کے تعلق پر بھی سوالات اٹھائے گا۔