تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ بھارت میں ویزا مسائل کے باعث غیر یقینی

ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ بھارت میں ویزا مسائل کے باعث غیر یقینی

نئی دہلی( سپورٹس ڈیسک)رواں برس نومبر میں بھارت میں شیڈول ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ ویزا مسائل کے باعث غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہے۔انٹرنیشنل بلیئرڈز اینڈ اسنوکر فیڈریشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزے جاری نہ کیے گئے تو ایونٹ کی میزبانی بھارت سے واپس لی جا سکتی ہے۔پاکستان بلیئرڈ اینڈ اسنوکر ایسوسی ایشن کے سربراہ عبدالقادر نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ اگر پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزے نہ ملے تو ٹورنامنٹ کسی اور ملک منتقل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2024 میں بھی اسی نوعیت کے ویزا مسائل کے باعث پاکستانی کھلاڑی ایک بڑے ایونٹ میں شرکت سے محروم رہے تھے۔یہ چیمپئن شپ اسنوکر کے اہم ترین مقابلوں میں شمار ہوتی ہے، جس میں ایشیا سمیت مختلف خطوں کے نامور کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔ حال ہی میں پاکستانی کھلاڑی محمد آصف اور عرفان نے ایشین اسنوکر چیمپئن شپ کے پری کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کر کے ملک کا نام روشن کیا۔عبدالقادر کا کہنا ہے کہ ویزوں کے اجرا کے بعد حکومتِ پاکستان کی ہدایات کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو یہ نہ صرف بھارت کی ساکھ کو متاثر کرے گا بلکہ کھیل اور سیاست کے تعلق پر بھی سوالات اٹھائے گا۔