لاہور( سپورٹس ڈیسک) دنیا بھر کے 21 سابق ٹیسٹ اور بین الاقوامی کپتانوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر سابق پاکستانی کپتان اور سابق وزیراعظم عمران خان کے طبی معائنے اور مناسب علاج کا مطالبہ کردیا۔کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق خط میں سابق کپتانوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کرنے اور ایسے میڈیکل بورڈ سے معائنہ کرانے کی ہدایت کی تھی جس میں ان کے ذاتی معالجین اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی شامل ہوں، جبکہ ہفتہ وار خاندانی ملاقاتیں بحال کرنے کا بھی حکم دیا گیا تھا۔خط میں تشویش ظاہر کی گئی کہ عمران خان کا اسپتال میں قیام صرف چند گھنٹوں تک محدود رہا اور سپریم کورٹ کی ہدایت کردہ میڈیکل بورڈ کے بجائے سرکاری طور پر مقرر ٹیم نے ان کا معائنہ کرکے انہیں طبی طور پر فٹ قرار دیا اور دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا۔سابق کپتانوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق میڈیکل بورڈ کو عمران خان، بالخصوص ان کی دائیں آنکھ کی مبینہ بینائی میں کمی، کا مکمل اور آزادانہ معائنہ کرنے دیا جائے، ہفتہ وار خاندانی ملاقاتیں بلا تعطل یقینی بنائی جائیں اور طبی معائنے کی بنیاد پر تجویز کردہ علاج فوری فراہم کیا جائے۔خط پر دستخط کرنے والوں میں مائیکل ایتھرٹن، ایلکس بلیک ویل، ایلن بارڈر، مائیکل بریرلی، گریگ چیپل، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک، ایلسٹر کک، مائیکل گیٹنگ، سنیل گواسکر، لی جرمن، ایڈم گلکرسٹ، ڈیوڈ گاور، کم ہیوز، ناصر حسین، کلائیو لائیڈ، کپل دیو، ارجنا راناٹنگا، اینڈریو اسٹراس، دلیپ وینگسرکر، اسٹیو وا اور جان رائٹ شامل ہیں۔سابق کپتانوں نے واضح کیا کہ یہ اپیل وہ سیاستدانوں کے طور پر نہیں بلکہ کرکٹ کے میدان میں عمران خان کے سابق ساتھیوں اور حریفوں کی حیثیت سے کررہے ہیں اور پاکستان کے داخلی قانونی معاملات میں مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتے۔یہ چھ ماہ کے دوران سابق عالمی کپتانوں کی جانب سے وزیراعظم کو دوسرا خط ہے۔ رواں سال فروری میں بھی 14 سابق کپتانوں نے عمران خان کی صحت اور مبینہ طور پر ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عمل درآمد کیا گیا اور شفاف طبی معائنہ کرایا گیا۔ ان کے مطابق عمران خان کے معائنے کے وقت ان کی ہمشیرہ اور شفا کے ڈاکٹر بھی موجود تھے اور سپریم کورٹ کے حکم کی تمام شرائط پوری کی گئیں۔عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ معائنہ شفاف طریقے سے ہوا، سکیورٹی سمیت تمام انتظامات مکمل تھے اور انتظامیہ نے آئین و قانون کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد یقینی بنایا۔