تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا

اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا

تل ابیب( مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیلی اخبار ماریو کی رپورٹ کے مطابق تین سال سے بھی کم عرصے میں اسرائیلی فوج نے اتنا گولہ بارود استعمال کیا جتنا گزشتہ تین دہائیوں میں استعمال کیا گیا تھا، جس کے باعث فوجی افرادی قوت، سازوسامان اور مالی وسائل پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں اسرائیلی فضائیہ کی کارروائیاں معمول کے حالات میں تقریباً 9 سال کی سرگرمی کے برابر رہیں، جبکہ ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ہزاروں انجن تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 53 ہزار ریزروسٹ روزانہ خدمات انجام دے رہے ہیں اور ریزرو فورس کی متحرک کاری پر اربوں شیکل خرچ ہو رہے ہیں۔ماریو کے مطابق اسرائیلی فوج کے 1,138 اہلکار ہلاک جبکہ 11,730 فوجیوں میں جسمانی یا نفسیاتی مسائل کی سرکاری طور پر نشاندہی ہوئی ہے۔ نفسیاتی صدمے سے متاثرہ اہلکاروں کی تعداد مزید بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔رپورٹ میں پیشہ ور فوجیوں میں تھکن کی علامات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بعض اہلکار کمانڈ ذمہ داریوں کے بجائے کم دباؤ والی ذمہ داریاں اختیار کر رہے ہیں جبکہ کچھ نے فوجی سروس چھوڑ دی ہے۔