تازہ ترین
سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ انتقال کرگئے شہباز شریف کی رانا مبشر اقبال سے خالہ زاد بھائی کے انتقال پر تعزیت عوام کو ریلیف نہ ملا تو فیصلے سڑکوں پر ہوں گے: حافظ نعیم الرحمٰن علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظربندی میں 30 روز کی توسیع خلائی کچرے سے نمٹنے کے لیے برطانیہ کا روبوٹک مشن تیار کرنے کا منصوبہ یوٹیوب کا نیا فیچر، صارفین اپنی پسند کی ویڈیوز کی فیڈ بنا سکیں گے واٹس ایپ ویب اور ڈیسک ٹاپ کے ذریعے سائبر حملوں کا ہائی الرٹ جاری کلفٹن کے ساحل پر سمندری کچھوا مردہ ملا، پلاسٹک کچرے سے حیات کو خطرہ فیشن شو میں عفت عمر کے ساتھ دلچسپ واقعہ، ویڈیو وائرل ہونے پر ٹرولنگ دانیال ظفر کا صحت پر توجہ دینے کیلئے شوبز سے عارضی وقفے کا اعلان درفشاں سلیم اور ماورا حسین کے لہنگوں میں مماثلت، تصاویر وائرل ابتدائی فلموں کی ناکامی نے فلمی کیریئر متاثر کیا، دیا مرزا کا انکشاف ایل کلاسیکو: ریال میڈرڈ نے بارسلونا کی مسلسل فتوحات کا سلسلہ روک دیا سہ ملکی سیریز: حارث رؤف کے مشورے پر شاداب خان نے ریویو لیا صائم ایوب کی درخواست منظور، صاحبزادہ فرحان قومی اسکواڈ میں شامل دنیا کا ہر بولر چھکے کھاتا ہے، تنقید سے فرق نہیں پڑتا: حارث رؤف
پاکستان خبر

اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا

اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا

تل ابیب( مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیلی اخبار ماریو کی رپورٹ کے مطابق تین سال سے بھی کم عرصے میں اسرائیلی فوج نے اتنا گولہ بارود استعمال کیا جتنا گزشتہ تین دہائیوں میں استعمال کیا گیا تھا، جس کے باعث فوجی افرادی قوت، سازوسامان اور مالی وسائل پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں اسرائیلی فضائیہ کی کارروائیاں معمول کے حالات میں تقریباً 9 سال کی سرگرمی کے برابر رہیں، جبکہ ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ہزاروں انجن تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 53 ہزار ریزروسٹ روزانہ خدمات انجام دے رہے ہیں اور ریزرو فورس کی متحرک کاری پر اربوں شیکل خرچ ہو رہے ہیں۔ماریو کے مطابق اسرائیلی فوج کے 1,138 اہلکار ہلاک جبکہ 11,730 فوجیوں میں جسمانی یا نفسیاتی مسائل کی سرکاری طور پر نشاندہی ہوئی ہے۔ نفسیاتی صدمے سے متاثرہ اہلکاروں کی تعداد مزید بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔رپورٹ میں پیشہ ور فوجیوں میں تھکن کی علامات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بعض اہلکار کمانڈ ذمہ داریوں کے بجائے کم دباؤ والی ذمہ داریاں اختیار کر رہے ہیں جبکہ کچھ نے فوجی سروس چھوڑ دی ہے۔