تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

چین میں جوتے بنانے والی فیکٹری میں آتشزدگی، 28 افراد ہلاک

چین میں جوتے بنانے والی فیکٹری میں آتشزدگی، 28 افراد ہلاک

بیجنگ( مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے مشرقی صوبے فوجیان میں جوتے تیار کرنے والی ایک فیکٹری میں خوفناک آگ لگنے کے نتیجے میں کم از کم 28 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ متعدد افراد کے عمارت کے اندر پھنسے ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔چینی سرکاری ذرائع کے مطابق آگ جمعرات کی دوپہر جن جیانگ شہر میں واقع ہوئی ٹینگ شوز فیکٹری میں اچانک لگی۔ واقعے کے فوراً بعد امدادی اداروں نے کارروائی شروع کردی اور بڑی تعداد میں فائر فائٹرز جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔چین کی وزارتِ ہنگامی انتظامات کے مطابق آگ پر قابو پانے اور ریسکیو آپریشن کیلئے 183 اہلکاروں اور 35 امدادی گاڑیوں کو تعینات کیا گیا۔ کئی گھنٹوں کی کوششوں کے باوجود فیکٹری سے دھواں اٹھتا رہا جبکہ امدادی ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف رہیں۔سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ کئی افراد نے جان بچانے کیلئے عمارت کی کھڑکیوں اور چھتوں پر پناہ لے رکھی تھی، جبکہ نچلی منزلوں میں آگ شدت سے پھیل رہی تھی۔جن جیانگ فائر بریگیڈ کے سربراہ ڈو ژین ژو نے بتایا کہ فیکٹری کی سیڑھیاں اور راستے جوتے بنانے میں استعمال ہونے والے خام مال اور دیگر سامان سے بھرے ہوئے تھے، جس کے باعث امدادی کارکنوں کو اوپری منزلوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ فیکٹری میں بڑی مقدار میں چپکنے والے کیمیکلز اور دیگر آتش گیر مواد موجود تھا، جس کی وجہ سے آگ مزید شدت اختیار کر گئی۔