تازہ ترین
وزیر دفاعی پیداوار کی وزیراعظم سے ملاقات، مکہ معاہدے پر مبارکباد 79واں جشنِ آزادی، تجدیدِ عہدِ وفا کا شاندار ٹیزر جاری لاہور میٹرو بس سروس بند ہونے کا خطرہ ٹل گیا شمالی وزیرستان میں رات کی نقل و حرکت پر پابندی عائد ترکی پارلیمنٹ کا پی کے کے جنگجوؤں کو جزوی معافی کا قانون منظور آبنائے ہرمز محفوظ بنانے کیلئے امریکی حملے، ناکہ بندی روکنا ہوگی: عراقچی ریاض ایئر کی ڈھاکہ کیلئے براہِ راست پروازیں شروع ٹرمپ کا ایران سے جنگی نقصانات کا معاوضہ لینے کا اعلان بلوچستان سیلاب متاثرین کی رہائشی امداد کا فنڈ منتقل کرنے پر ورلڈ بینک برہم پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، ہنڈرڈ انڈیکس 1000 پوائنٹس گر گیا حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز میں مذاکرات ناکام، ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ ایران امریکا کشیدگی، عالمی فضائی صنعت شدید بحران کا شکار ون ڈے ورلڈکپ 2027 میں 14 ٹیمیں شریک ہوں گی کراچی کی حالت دیکھ کر بہت شرمندگی ہوتی ہے: شاہد آفریدی شان مسعود کی انگلی زخمی، پریکٹس میچ میں شرکت مشکوک ربادا وسیم اکرم کی 1992ء کی کارکردگی کے معترف
پاکستان خبر

چین میں جوتے بنانے والی فیکٹری میں آتشزدگی، 28 افراد ہلاک

چین میں جوتے بنانے والی فیکٹری میں آتشزدگی، 28 افراد ہلاک

بیجنگ( مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے مشرقی صوبے فوجیان میں جوتے تیار کرنے والی ایک فیکٹری میں خوفناک آگ لگنے کے نتیجے میں کم از کم 28 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ متعدد افراد کے عمارت کے اندر پھنسے ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔چینی سرکاری ذرائع کے مطابق آگ جمعرات کی دوپہر جن جیانگ شہر میں واقع ہوئی ٹینگ شوز فیکٹری میں اچانک لگی۔ واقعے کے فوراً بعد امدادی اداروں نے کارروائی شروع کردی اور بڑی تعداد میں فائر فائٹرز جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔چین کی وزارتِ ہنگامی انتظامات کے مطابق آگ پر قابو پانے اور ریسکیو آپریشن کیلئے 183 اہلکاروں اور 35 امدادی گاڑیوں کو تعینات کیا گیا۔ کئی گھنٹوں کی کوششوں کے باوجود فیکٹری سے دھواں اٹھتا رہا جبکہ امدادی ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف رہیں۔سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ کئی افراد نے جان بچانے کیلئے عمارت کی کھڑکیوں اور چھتوں پر پناہ لے رکھی تھی، جبکہ نچلی منزلوں میں آگ شدت سے پھیل رہی تھی۔جن جیانگ فائر بریگیڈ کے سربراہ ڈو ژین ژو نے بتایا کہ فیکٹری کی سیڑھیاں اور راستے جوتے بنانے میں استعمال ہونے والے خام مال اور دیگر سامان سے بھرے ہوئے تھے، جس کے باعث امدادی کارکنوں کو اوپری منزلوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ فیکٹری میں بڑی مقدار میں چپکنے والے کیمیکلز اور دیگر آتش گیر مواد موجود تھا، جس کی وجہ سے آگ مزید شدت اختیار کر گئی۔