تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

چین میں جوتے بنانے والی فیکٹری میں آتشزدگی، 28 افراد ہلاک

چین میں جوتے بنانے والی فیکٹری میں آتشزدگی، 28 افراد ہلاک

بیجنگ( مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے مشرقی صوبے فوجیان میں جوتے تیار کرنے والی ایک فیکٹری میں خوفناک آگ لگنے کے نتیجے میں کم از کم 28 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ متعدد افراد کے عمارت کے اندر پھنسے ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔چینی سرکاری ذرائع کے مطابق آگ جمعرات کی دوپہر جن جیانگ شہر میں واقع ہوئی ٹینگ شوز فیکٹری میں اچانک لگی۔ واقعے کے فوراً بعد امدادی اداروں نے کارروائی شروع کردی اور بڑی تعداد میں فائر فائٹرز جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔چین کی وزارتِ ہنگامی انتظامات کے مطابق آگ پر قابو پانے اور ریسکیو آپریشن کیلئے 183 اہلکاروں اور 35 امدادی گاڑیوں کو تعینات کیا گیا۔ کئی گھنٹوں کی کوششوں کے باوجود فیکٹری سے دھواں اٹھتا رہا جبکہ امدادی ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف رہیں۔سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ کئی افراد نے جان بچانے کیلئے عمارت کی کھڑکیوں اور چھتوں پر پناہ لے رکھی تھی، جبکہ نچلی منزلوں میں آگ شدت سے پھیل رہی تھی۔جن جیانگ فائر بریگیڈ کے سربراہ ڈو ژین ژو نے بتایا کہ فیکٹری کی سیڑھیاں اور راستے جوتے بنانے میں استعمال ہونے والے خام مال اور دیگر سامان سے بھرے ہوئے تھے، جس کے باعث امدادی کارکنوں کو اوپری منزلوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ فیکٹری میں بڑی مقدار میں چپکنے والے کیمیکلز اور دیگر آتش گیر مواد موجود تھا، جس کی وجہ سے آگ مزید شدت اختیار کر گئی۔