تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

چین میں جوتے بنانے والی فیکٹری میں آتشزدگی، 28 افراد ہلاک

چین میں جوتے بنانے والی فیکٹری میں آتشزدگی، 28 افراد ہلاک

بیجنگ( مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے مشرقی صوبے فوجیان میں جوتے تیار کرنے والی ایک فیکٹری میں خوفناک آگ لگنے کے نتیجے میں کم از کم 28 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ متعدد افراد کے عمارت کے اندر پھنسے ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔چینی سرکاری ذرائع کے مطابق آگ جمعرات کی دوپہر جن جیانگ شہر میں واقع ہوئی ٹینگ شوز فیکٹری میں اچانک لگی۔ واقعے کے فوراً بعد امدادی اداروں نے کارروائی شروع کردی اور بڑی تعداد میں فائر فائٹرز جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔چین کی وزارتِ ہنگامی انتظامات کے مطابق آگ پر قابو پانے اور ریسکیو آپریشن کیلئے 183 اہلکاروں اور 35 امدادی گاڑیوں کو تعینات کیا گیا۔ کئی گھنٹوں کی کوششوں کے باوجود فیکٹری سے دھواں اٹھتا رہا جبکہ امدادی ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف رہیں۔سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ کئی افراد نے جان بچانے کیلئے عمارت کی کھڑکیوں اور چھتوں پر پناہ لے رکھی تھی، جبکہ نچلی منزلوں میں آگ شدت سے پھیل رہی تھی۔جن جیانگ فائر بریگیڈ کے سربراہ ڈو ژین ژو نے بتایا کہ فیکٹری کی سیڑھیاں اور راستے جوتے بنانے میں استعمال ہونے والے خام مال اور دیگر سامان سے بھرے ہوئے تھے، جس کے باعث امدادی کارکنوں کو اوپری منزلوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ فیکٹری میں بڑی مقدار میں چپکنے والے کیمیکلز اور دیگر آتش گیر مواد موجود تھا، جس کی وجہ سے آگ مزید شدت اختیار کر گئی۔