اسلام آباد( پاکستان خبر) نجی ٹی وی شو میںسابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق بحث کو ڈرامہ قرار دے دیا۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں، تاہم ریفرنڈم کے ذریعے آئینی طریقہ کار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چودھری نے کہا کہ گورننس اور معیشت کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ 18ویں ترمیم کو 16 سال گزر چکے ہیں، لیکن وسائل اب تک نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کی دھمکی سامنے آنے کے بعد بہت سے لوگ اب مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کی بات کررہے ہیں۔دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ زاہد محمود نے کہا کہ صوبوں میں موجود مسائل کی بنیادی وجہ ناقص طرز حکمرانی ہے۔ اگر نئے صوبوں کی تجویز پیش کی گئی ہے تو اس کے ساتھ یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ اس اقدام سے عوام کے مسائل کس طرح حل ہوں گے۔