تازہ ترین
ٹائمز اسکوائر میں چاقو حملہ، بینک آف امریکا کی نائب صدر ہلاک شام کی خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق تمام سوالات حل: آئی اے ای اے طالبان حکومت پانچ سال بعد بھی جامع نظام دینے میں ناکام: اعلامیہ ایران کا عرب ممالک سے امریکی افواج نکالنے کا مطالبہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، ہنڈرڈ انڈیکس 1700 پوائنٹس گرگیا اگست میں مہنگائی 11.2 فیصد، ایک ماہ بعد پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل کاروباری اوقات میں 30 منٹ اضافے کی سفارش، بجلی مہنگی ہونے کا خدشہ امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل مزید مہنگا مصباح الحق کا پی سی بی سے اختلافات پر استعفیٰ، بحران شدت اختیار کرگیا قومی ہاکی چیمپئن شپ کی انعامی رقم میں 10 گنا اضافہ پاکستان کرکٹ کی ساکھ میدان میں کامیابی سے بحال ہوگی:محمد یوسف لارڈز ٹیسٹ شکست، پی سی بی کے مزید سخت فیصلوں کا امکان مالینی شرما کی شوبز سے دور نئی زندگی نے مداحوں کو حیران کردیا فریال گوہر کا 9 سالہ ازدواجی زندگی میں تشدد پر انکشاف مشی خان نے فریال گوہر کو سابق شوہر کے دعووں پر تنقید کا نشانہ بنا دیا ٹوٹا ہوا اسکرین پروٹیکٹر استعمال کرنا کتنا محفوظ ہے؟
پاکستان خبر

کاروباری اوقات میں 30 منٹ اضافے کی سفارش، بجلی مہنگی ہونے کا خدشہ

کاروباری اوقات میں 30 منٹ اضافے کی سفارش، بجلی مہنگی ہونے کا خدشہ

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کی ذیلی کمیٹی نے موجودہ کاروباری اوقات کار میں ابتدائی طور پر 30 منٹ اضافے کی سفارش کردی، جبکہ پاور ڈویژن نے کاروباری اوقات بڑھانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے لیے 600 میگاواٹ اضافی بجلی درکار ہوگی اور فرنس آئل پلانٹس چلانے کی صورت میں فی یونٹ ایندھن کی لاگت میں 5 روپے اضافہ ہوگا۔سینیٹر طلحہ محمود کی زیرصدارت اجلاس میں کاروباری برادری نے مؤقف اختیار کیا کہ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس اسی وقت بڑھے گا جب کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ پاور ڈویژن حکام نے بتایا کہ ملک کے پاس صرف ایک دن کا ایل این جی اسٹاک موجود ہے، جبکہ اسپاٹ کارگوز منگوانے کی صورت میں بجلی مزید مہنگی پڑے گی۔اجلاس میں کاروباری اوقات کار بتدریج معمول پر لانے کے لیے 30 منٹ اضافے کی سفارش کی گئی۔ پاکستان سے صنعتوں کی منتقلی، ایف بی آر کی گورننس، افسران کی دہری شہریت، صنعتی پالیسی اور کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنے کے امور پر بھی غور کیا گیا۔ایف بی آر حکام نے بتایا کہ کاروباری برادری کے ساتھ مشترکہ کمیٹیوں سمیت اعتماد سازی کے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم کی ہدایت پر چیئرمین ایف بی آر ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی میں کیمپ آفس قائم کریں گے، جبکہ لاہور میں بھی 2 روزہ کیمپ آفس قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ ذیلی کمیٹی نے ایکسپورٹ پراسیسنگ زونز اور اسپیشل اکنامک زونز کو 2035 تک مرحلہ وار ختم کرنے کی آئی ایم ایف کی شرط پر دوبارہ مذاکرات کی سفارش بھی کی ہے اور پاکستان کے صنعتی و سرمایہ کاری مفادات کو مدنظر رکھنے پر زور دیا ہے