تازہ ترین
ٹائمز اسکوائر میں چاقو حملہ، بینک آف امریکا کی نائب صدر ہلاک شام کی خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق تمام سوالات حل: آئی اے ای اے طالبان حکومت پانچ سال بعد بھی جامع نظام دینے میں ناکام: اعلامیہ ایران کا عرب ممالک سے امریکی افواج نکالنے کا مطالبہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، ہنڈرڈ انڈیکس 1700 پوائنٹس گرگیا اگست میں مہنگائی 11.2 فیصد، ایک ماہ بعد پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل کاروباری اوقات میں 30 منٹ اضافے کی سفارش، بجلی مہنگی ہونے کا خدشہ امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل مزید مہنگا مصباح الحق کا پی سی بی سے اختلافات پر استعفیٰ، بحران شدت اختیار کرگیا قومی ہاکی چیمپئن شپ کی انعامی رقم میں 10 گنا اضافہ پاکستان کرکٹ کی ساکھ میدان میں کامیابی سے بحال ہوگی:محمد یوسف لارڈز ٹیسٹ شکست، پی سی بی کے مزید سخت فیصلوں کا امکان مالینی شرما کی شوبز سے دور نئی زندگی نے مداحوں کو حیران کردیا فریال گوہر کا 9 سالہ ازدواجی زندگی میں تشدد پر انکشاف مشی خان نے فریال گوہر کو سابق شوہر کے دعووں پر تنقید کا نشانہ بنا دیا ٹوٹا ہوا اسکرین پروٹیکٹر استعمال کرنا کتنا محفوظ ہے؟
پاکستان خبر

شام کی خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق تمام سوالات حل: آئی اے ای اے

شام کی خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق تمام سوالات حل: آئی اے ای اے

نیویارک( مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے کہا ہے کہ شام میں سابق صدر بشار الاسد اور ان کے خاندان کے دور میں جاری خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق تمام اہم سوالات حل ہوگئے ہیں۔آئی اے ای اے کی خفیہ رپورٹ کے مطابق شام کی نئی حکومت نے تحقیقات کے دوران ادارے کو ضروری معلومات اور رسائی فراہم کی، جس پر ایجنسی نے شامی حکام کے شفاف تعاون کو سراہا۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسے شام کے ماضی کے جوہری پروگرام اور باقی ماندہ جوہری مواد سے متعلق اپنے زیر التوا حفاظتی سوالات کے جوابات مل گئے ہیں۔رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ 2007 میں اسرائیل نے شام کے مشرقی صوبے دیر الزور میں جس غیر اعلانیہ تنصیب کو بمباری کرکے تباہ کیا تھا، وہ زیر تعمیر جوہری ری ایکٹر تھا۔ اس سے منسلک ایک مقام پر 73 میٹرک ٹن قدرتی یورینیم دھات بھی موجود تھی، جس میں تقریباً 55 ٹن ایندھن کی سلاخوں کی شکل میں تھا۔رپورٹ کے مطابق شام اس ری ایکٹر کے لیے ایندھن تیار کررہا تھا، جبکہ سابق شامی حکام نے ان تنصیبات اور جوہری مواد کو ظاہر نہیں کیا تھا۔ایران سے متعلق سہ ماہی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہاں اب بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔جون 2025ء میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے آئی اے ای اے کو ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کی تصدیق کے لیے ضروری رسائی حاصل نہیں ہوسکی۔