تازہ ترین
میکسیکو میں مذہبی میلے کے دوران دھماکا، 10 افراد ہلاک نئی دہلی میں ہاسٹل کی عمارت منہدم، 7 طلبہ ہلاک اسرائیل میں کائی کا پھیلاؤ، دو پانی صاف کرنے والے پلانٹس بند بغداد بک فیئر میں 28 ممالک کی ریکارڈ شرکت عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی چیری کیو متعارف، ایک چارج پر 400 کلومیٹر سفر ممکن ایس ای سی پی نے بزنس ریڈی رینکنگ بہتر بنانے کے اقدامات منظور کرلیے کم کاربن پیداوار پاکستانی برآمدی صنعت کی نئی ضرورت بن گئی سرفراز احمد کو ہٹانے کی مبینہ وجہ سامنے آگئی پی سی بی نے کھلاڑیوں کے رویے سے متعلق انکوائری شروع کردی فاطمہ نسیم نے بھارتی کھلاڑی کا ریکارڈ توڑ کر 10 عالمی ریکارڈ بنالیے جنوبی افریقا نے زمبابوے کو شکست دے کر سہ ملکی سیریز جیت لی شاہ رخ خان انڈر ورلڈ کے سامنے ڈٹ گئے، سنجے گپتا کا انکشاف نارتھ ویسٹ کا پہلا ہیڈلائن کنسرٹ، کم اور کانیے پھر اکٹھے کیانو ریوز کی شادی نہ کرنے کی مبینہ وجہ سامنے آگئی ایشا رکھی نے بادشاہ سے تعلق کو زندگی کا بدترین دور قرار دے دیا
پاکستان خبر

شام کی خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق تمام سوالات حل: آئی اے ای اے

شام کی خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق تمام سوالات حل: آئی اے ای اے

نیویارک( مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے کہا ہے کہ شام میں سابق صدر بشار الاسد اور ان کے خاندان کے دور میں جاری خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق تمام اہم سوالات حل ہوگئے ہیں۔آئی اے ای اے کی خفیہ رپورٹ کے مطابق شام کی نئی حکومت نے تحقیقات کے دوران ادارے کو ضروری معلومات اور رسائی فراہم کی، جس پر ایجنسی نے شامی حکام کے شفاف تعاون کو سراہا۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسے شام کے ماضی کے جوہری پروگرام اور باقی ماندہ جوہری مواد سے متعلق اپنے زیر التوا حفاظتی سوالات کے جوابات مل گئے ہیں۔رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ 2007 میں اسرائیل نے شام کے مشرقی صوبے دیر الزور میں جس غیر اعلانیہ تنصیب کو بمباری کرکے تباہ کیا تھا، وہ زیر تعمیر جوہری ری ایکٹر تھا۔ اس سے منسلک ایک مقام پر 73 میٹرک ٹن قدرتی یورینیم دھات بھی موجود تھی، جس میں تقریباً 55 ٹن ایندھن کی سلاخوں کی شکل میں تھا۔رپورٹ کے مطابق شام اس ری ایکٹر کے لیے ایندھن تیار کررہا تھا، جبکہ سابق شامی حکام نے ان تنصیبات اور جوہری مواد کو ظاہر نہیں کیا تھا۔ایران سے متعلق سہ ماہی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہاں اب بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔جون 2025ء میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے آئی اے ای اے کو ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کی تصدیق کے لیے ضروری رسائی حاصل نہیں ہوسکی۔