لاہور ( سپورٹس ڈیسک)پاکستان کرکٹ ٹیم میں ہونے والی حیران کن تبدیلیوں کے بعد بحران میں مزید شدت اس وقت آگئی جب سینئر سلیکٹر، قومی اکیڈمی کے کنسلٹنٹ اور کوچ مصباح الحق نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے اختلافات کے بعد عہدے سے استعفیٰ دے کر اپنی راہیں جدا کرلیں۔مصباح الحق نے اپنا استعفیٰ بذریعہ ای میل پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھجوا دیا ہے۔ انہوں نے لاہور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بیٹنگ کنسلٹنٹ کے عہدے سے بھی دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔پی سی بی نے مصباح الحق کو سرفراز احمد کے ساتھ سلیکٹر مقرر کیا تھا۔ لارڈز ٹیسٹ کے تنازع میں مرکزی کردار امام الحق خاموشی سے لاہور پہنچ گئے، وہ چہرے پر ماسک لگا کر ڈپارچر لاؤنج سے سیکیورٹی میں باہر نکلے۔لندن سے امام الحق کے ساتھ پاکستان آنے والے محمد رضوان نے دوحا سے اسلام آباد کی پرواز لی اور وہ بھی خاموشی سے وطن واپس پہنچ گئے۔ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے رکن مصباح الحق نے اپنا استعفیٰ پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھجوا دیا ہے اور وہ ایک ماہ کا نوٹس پیریڈ گزاریں گے۔ مصباح الحق نے دورہ انگلینڈ کے لیے بھیجے جانے والے کھلاڑیوں کے معاملے پر مشاورت نہ کیے جانے پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا۔مصباح الحق کے قریبی ذرائع کے مطابق سابق کپتان نے سلیکشن کمیٹی سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے، تاہم ان کے استعفے کی وجوہات اور باقاعدہ طور پر استعفیٰ جمع کرانے کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔مصباح الحق کا نوٹس پیریڈ شروع ہوگیا ہے۔ انہوں نے نوٹس پیریڈ سے متعلق پی سی بی کو آگاہ کردیا ہے اور وہ مدت مکمل ہونے کے بعد بورڈ سے الگ ہوجائیں گے۔