تازہ ترین
ٹائمز اسکوائر میں چاقو حملہ، بینک آف امریکا کی نائب صدر ہلاک شام کی خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق تمام سوالات حل: آئی اے ای اے طالبان حکومت پانچ سال بعد بھی جامع نظام دینے میں ناکام: اعلامیہ ایران کا عرب ممالک سے امریکی افواج نکالنے کا مطالبہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، ہنڈرڈ انڈیکس 1700 پوائنٹس گرگیا اگست میں مہنگائی 11.2 فیصد، ایک ماہ بعد پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل کاروباری اوقات میں 30 منٹ اضافے کی سفارش، بجلی مہنگی ہونے کا خدشہ امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل مزید مہنگا مصباح الحق کا پی سی بی سے اختلافات پر استعفیٰ، بحران شدت اختیار کرگیا قومی ہاکی چیمپئن شپ کی انعامی رقم میں 10 گنا اضافہ پاکستان کرکٹ کی ساکھ میدان میں کامیابی سے بحال ہوگی:محمد یوسف لارڈز ٹیسٹ شکست، پی سی بی کے مزید سخت فیصلوں کا امکان مالینی شرما کی شوبز سے دور نئی زندگی نے مداحوں کو حیران کردیا فریال گوہر کا 9 سالہ ازدواجی زندگی میں تشدد پر انکشاف مشی خان نے فریال گوہر کو سابق شوہر کے دعووں پر تنقید کا نشانہ بنا دیا ٹوٹا ہوا اسکرین پروٹیکٹر استعمال کرنا کتنا محفوظ ہے؟
پاکستان خبر

اگست میں مہنگائی 11.2 فیصد، ایک ماہ بعد پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

اگست میں مہنگائی 11.2 فیصد، ایک ماہ بعد پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک)ملک میں مہنگائی کی شرح ایک ماہ کے وقفے کے بعد دوبارہ ڈبل ڈیجٹ میں داخل ہوگئی، اگست میں صارف قیمت اشاریہ کے تحت مہنگائی کی سالانہ شرح 11.2 فیصد ریکارڈ کی گئی۔جولائی میں مہنگائی کی شرح 9.2 فیصد تھی، تاہم گندم اور آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافے، پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے نے مہنگائی کو دوبارہ دوہرے ہندسے میں پہنچا دیا۔پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق اگست میں مہنگائی میں اضافہ شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں دیکھا گیا، جبکہ خوراک اور توانائی سمیت متعدد شعبوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔حکومت کی جانب سے عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں کا مکمل بوجھ صارفین پر منتقل کرنے اور پٹرولیم مصنوعات پر مختلف ٹیکس عائد کرنے کے باعث موٹر فیول کی قیمتیں گزشتہ سال اگست کے مقابلے میں تقریباً 25 فیصد بڑھ گئیں۔پٹرول پر فی لیٹر تقریباً 116 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 101 روپے کے مختلف ٹیکس وصول کیے جارہے ہیں، جن میں پٹرولیم لیوی، کاربن لیوی اور کسٹمز ڈیوٹی شامل ہیں۔وزارت خزانہ نے اگست میں مہنگائی کی شرح 10 سے 11 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی تھی، تاہم اصل شرح اس اندازے سے بھی قدرے زیادہ رہی۔وزارت خزانہ کے مطابق حالیہ قیمتوں کے دباؤ اور عالمی سطح پر اشیائے ضروریہ و توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات ملکی معیشت میں منتقل ہونے کے باعث قلیل مدت میں مہنگائی بلند رہنے کا امکان ہے۔