کراچی (شو بز ڈیسک)پاکستان شوبز انڈسٹری سے وابستہ ماضی کی معروف اداکارہ فریال گوہر نے اپنی 9 سالہ ازدواجی زندگی کے دوران پیش آنے والے تلخ واقعات پر پہلی بار کھل کر بات کی ہے۔اداکارہ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ پاکستان میں شادی شدہ خواتین کے خلاف گھریلو تشدد ایک عام مسئلہ ہے، جو تعلیم، خود مختاری یا سماجی حیثیت سے قطع نظر کسی بھی خاتون کو متاثر کرسکتا ہے۔فریال گوہر نے دعویٰ کیا کہ بہت سی خواتین گھروں کی چار دیواری میں تشدد برداشت کرتی ہیں اور اپنی چوٹیں دوسروں سے چھپانے پر مجبور ہوتی ہیں۔اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے اداکارہ نے بتایا کہ ’’مجھے بچپن میں بھی تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم میں اس حوالے سے تمام تفصیلات منظرِ عام پر نہیں لانا چاہتی۔‘‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’شادی کے بعد مجھے بارہا چمڑے کی بیلٹ سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور تشدد کی شدت کے باعث حمل ضائع ہونے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔‘‘فریال گوہر کا کہنا تھا کہ ’’میں اس وقت صرف 23 سال کی تھی جب میری شادی ہوئی اور یہ رشتہ ابتدا میں میری اپنی پسند سے قائم ہوا تھا، خاندان بھی اس رشتے پر خوش تھا، جس کی ایک وجہ شوہر کا سید خاندان سے تعلق بھی تھا۔‘‘