تازہ ترین
ٹائمز اسکوائر میں چاقو حملہ، بینک آف امریکا کی نائب صدر ہلاک شام کی خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق تمام سوالات حل: آئی اے ای اے طالبان حکومت پانچ سال بعد بھی جامع نظام دینے میں ناکام: اعلامیہ ایران کا عرب ممالک سے امریکی افواج نکالنے کا مطالبہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، ہنڈرڈ انڈیکس 1700 پوائنٹس گرگیا اگست میں مہنگائی 11.2 فیصد، ایک ماہ بعد پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل کاروباری اوقات میں 30 منٹ اضافے کی سفارش، بجلی مہنگی ہونے کا خدشہ امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل مزید مہنگا مصباح الحق کا پی سی بی سے اختلافات پر استعفیٰ، بحران شدت اختیار کرگیا قومی ہاکی چیمپئن شپ کی انعامی رقم میں 10 گنا اضافہ پاکستان کرکٹ کی ساکھ میدان میں کامیابی سے بحال ہوگی:محمد یوسف لارڈز ٹیسٹ شکست، پی سی بی کے مزید سخت فیصلوں کا امکان مالینی شرما کی شوبز سے دور نئی زندگی نے مداحوں کو حیران کردیا فریال گوہر کا 9 سالہ ازدواجی زندگی میں تشدد پر انکشاف مشی خان نے فریال گوہر کو سابق شوہر کے دعووں پر تنقید کا نشانہ بنا دیا ٹوٹا ہوا اسکرین پروٹیکٹر استعمال کرنا کتنا محفوظ ہے؟
پاکستان خبر

طالبان حکومت پانچ سال بعد بھی جامع نظام دینے میں ناکام: اعلامیہ

طالبان حکومت پانچ سال بعد بھی جامع نظام دینے میں ناکام: اعلامیہ

 کابل( مانیٹرنگ ڈیسک) طالبان رجیم کے پانچ سال مکمل ہونے پر اسلام آباد میں اہم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس کا اہتمام انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز اور ساؤتھ ایشیا ٹائمز کے تعاون سے کیا گیا۔کانفرنس میں پالیسی حلقوں، تھنک ٹینکس، افغانستان امور کے ماہرین، ملکی و غیر ملکی مبصرین، پالیسی سازوں، سفارتی اہلکاروں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد نے شرکت کی۔کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ طالبان حکومت پانچ سال گزرنے کے باوجود جامع نظامِ حکومت لانے میں بری طرح ناکام رہی، جبکہ جامع حکومت اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے دعوے بھی تاحال مکمل نہیں ہوسکے۔اعلامیے کے مطابق شوریٰ کا نظام کمزور ہے اور افغان عوام حکومت کی ناکامیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا کہ شریعت کی دعوے دار طالبان رجیم تکفیری نظریات سے شدید متاثر نظر آتی ہے، جبکہ نام نہاد شریعت کے دعوے دار طالبان خوارج کے سب سے بڑے حمایتی بن چکے ہیں۔شدید نظریاتی اختلافات کے باعث کابل اور قندھار گروہوں کے درمیان چپقلش میں بھی تیزی آئی ہے۔اعلامیے میں خواتین کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ انہیں تعلیم اور روزگار تک رسائی سے محروم کردیا گیا، جبکہ طالبان حکومت علاقائی اور عالمی برادری کے تحفظات دور کرنے میں بھی ناکام رہی۔کانفرنس کے اعلامیے کے مطابق معاشی میدان میں بھی طالبان رجیم ناکام ہے اور افغان عوام مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی، داعش خراسان، بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد گروہ بدستور موجود ہیں، جس کے باعث پاکستان سمیت دیگر پڑوسی ممالک بھی افغانستان میں موجود دہشت گردی سے محفوظ نہیں۔