تازہ ترین
وزیر دفاعی پیداوار کی وزیراعظم سے ملاقات، مکہ معاہدے پر مبارکباد 79واں جشنِ آزادی، تجدیدِ عہدِ وفا کا شاندار ٹیزر جاری لاہور میٹرو بس سروس بند ہونے کا خطرہ ٹل گیا شمالی وزیرستان میں رات کی نقل و حرکت پر پابندی عائد ترکی پارلیمنٹ کا پی کے کے جنگجوؤں کو جزوی معافی کا قانون منظور آبنائے ہرمز محفوظ بنانے کیلئے امریکی حملے، ناکہ بندی روکنا ہوگی: عراقچی ریاض ایئر کی ڈھاکہ کیلئے براہِ راست پروازیں شروع ٹرمپ کا ایران سے جنگی نقصانات کا معاوضہ لینے کا اعلان بلوچستان سیلاب متاثرین کی رہائشی امداد کا فنڈ منتقل کرنے پر ورلڈ بینک برہم پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، ہنڈرڈ انڈیکس 1000 پوائنٹس گر گیا حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز میں مذاکرات ناکام، ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ ایران امریکا کشیدگی، عالمی فضائی صنعت شدید بحران کا شکار ون ڈے ورلڈکپ 2027 میں 14 ٹیمیں شریک ہوں گی کراچی کی حالت دیکھ کر بہت شرمندگی ہوتی ہے: شاہد آفریدی شان مسعود کی انگلی زخمی، پریکٹس میچ میں شرکت مشکوک ربادا وسیم اکرم کی 1992ء کی کارکردگی کے معترف
پاکستان خبر

اے ڈی بی نے ایشیا کی 2026 معاشی ترقی کا تخمینہ کم کر دیا

اے ڈی بی نے ایشیا کی 2026 معاشی ترقی کا تخمینہ کم کر دیا

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) ایشیائی ترقیاتی بینک نے ترقی پذیر ایشیا اور بحرالکاہل کی معیشتوں کے لیے 2026 کی اقتصادی ترقی کی پیش گوئی کم کرتے ہوئے اسے 4.9 فیصد کر دیا ہے، جبکہ 2025 میں خطے کی شرح نمو 5.5 فیصد رہی تھی۔اے ڈی بی کے مطابق یہ نیا تخمینہ اپریل میں جاری کیے گئے اندازوں کے مقابلے میں 0.2 فیصد پوائنٹس کم ہے۔تفصیلات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کی جولائی 2026 کی جاری کردہ رپورٹ ایشیائی ترقیاتی جائزے میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں میں طویل رکاوٹوں نے خطے کی معاشی صورتحال کو توقعات سے زیادہ متاثر کیا ہے۔رپورٹ میں 2027 کے لیے معاشی ترقی کی شرح کا تخمینہ 5.1 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے، کیونکہ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ موجودہ دباؤ میں کمی آنے سے معاشی سرگرمیوں میں بتدریج بہتری آئے گی۔اے ڈی بی کے مطابق جون میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے باوجود عالمی توانائی کی منڈیوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے مکمل خاتمے میں وقت لگ سکتا ہے۔ توانائی کے علاوہ کھاد، خام مال اور عالمی سپلائی نظام پر بھی اس صورتحال کے اثرات برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترقی پذیر ایشیا میں 2026 کے دوران مہنگائی کی شرح 4.3 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ 2025 میں یہ شرح 3 فیصد تھی۔ اپریل کے تخمینوں کے مقابلے میں مہنگائی کی نئی پیش گوئی میں 0.7 فیصد پوائنٹس اضافہ کیا گیا ہے، تاہم 2027 کے لیے مہنگائی کی شرح کا اندازہ 3.4 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے۔اے ڈی بی کے چیف ماہرِ معاشیات البرٹ پارک نے کہا کہ اگر فریم ورک معاہدے پر مؤثر اور مستقل عمل درآمد ہوتا ہے تو عالمی توانائی کی منڈیوں میں معمول کی صورتحال بحال ہونے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس عمل کی رفتار کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے اور کئی بڑے خطرات بھی موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ایشیا اور بحرالکاہل کی معاشی بنیادیں اب بھی مضبوط ہیں، لیکن تنازعات سے پیدا ہونے والے مسلسل دباؤ کے باعث حکومتوں کو معاشی ترقی کے فروغ اور مہنگائی پر قابو پانے کے درمیان متوازن پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔