تازہ ترین
وزیر دفاعی پیداوار کی وزیراعظم سے ملاقات، مکہ معاہدے پر مبارکباد 79واں جشنِ آزادی، تجدیدِ عہدِ وفا کا شاندار ٹیزر جاری لاہور میٹرو بس سروس بند ہونے کا خطرہ ٹل گیا شمالی وزیرستان میں رات کی نقل و حرکت پر پابندی عائد ترکی پارلیمنٹ کا پی کے کے جنگجوؤں کو جزوی معافی کا قانون منظور آبنائے ہرمز محفوظ بنانے کیلئے امریکی حملے، ناکہ بندی روکنا ہوگی: عراقچی ریاض ایئر کی ڈھاکہ کیلئے براہِ راست پروازیں شروع ٹرمپ کا ایران سے جنگی نقصانات کا معاوضہ لینے کا اعلان بلوچستان سیلاب متاثرین کی رہائشی امداد کا فنڈ منتقل کرنے پر ورلڈ بینک برہم پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، ہنڈرڈ انڈیکس 1000 پوائنٹس گر گیا حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز میں مذاکرات ناکام، ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ ایران امریکا کشیدگی، عالمی فضائی صنعت شدید بحران کا شکار ون ڈے ورلڈکپ 2027 میں 14 ٹیمیں شریک ہوں گی کراچی کی حالت دیکھ کر بہت شرمندگی ہوتی ہے: شاہد آفریدی شان مسعود کی انگلی زخمی، پریکٹس میچ میں شرکت مشکوک ربادا وسیم اکرم کی 1992ء کی کارکردگی کے معترف
پاکستان خبر

افغان وزیر کے بیان پر تنازع، افغانستان اور بھارت کی قربت پر سوالات پیدا

افغان وزیر کے بیان پر تنازع، افغانستان اور بھارت کی قربت پر سوالات پیدا

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) افغان وزیر زراعت مولوی عطاء اللہ عمری کے افغانستان اور بھارت کے ڈی این اے کو ایک قرار دینے والے بیان پر سیاسی اور تجزیاتی حلقوں میں بحث شروع ہو گئی ہے۔بھارتی جریدے دی اکنامک ٹائمز کے مطابق افغان وزیر زراعت مولوی عطاء اللہ عمری نے نئی دہلی کے دورے کے دوران کہا کہ انہیں بھارت آ کر ایسا محسوس نہیں ہوا کہ وہ کسی غیر ملک میں ہیں، بلکہ انہیں لگا جیسے وہ اپنے ہی ملک میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان اور بھارت کا ڈی این اے ایک ہے۔رپورٹ کے مطابق افغان وزیر کے اس بیان کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات اور علاقائی سیاست کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان اور بھارت کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور علاقائی روابط موجود رہے ہیں، تاہم خطے کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایسے بیانات پر مختلف حلقے اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کر رہے ہیں۔بعض مبصرین کے مطابق خطے میں دہشت گردی، سیکیورٹی صورتحال اور سیاسی معاملات پر افغانستان، بھارت اور پاکستان کے تعلقات طویل عرصے سے پیچیدہ رہے ہیں، جبکہ ان معاملات پر مختلف فریق ایک دوسرے پر الزامات بھی عائد کرتے رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی قربت کو بعض حلقے علاقائی سیاست کے تناظر میں دیکھتے ہیں، جبکہ دیگر اسے تاریخی اور سفارتی روابط کے تناظر میں اہم قرار دیتے ہیں۔