تازہ ترین
مستونگ میں امن و امان کے لیے کرفیو نافذ پاکستان اور عمان میں تجارت و تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان اور امریکا میں اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق مون سون بارشیں، پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح بلند حوثیوں کا سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ افغانستان میں انسانی بحران اور سیکیورٹی خدشات میں اضافہ بھارت میں طلبہ احتجاج پھیل گیا، حکومت سے استعفوں کا مطالبہ جنسی بدسلوکی تحقیقات کے دوران بھارتی نژاد سائنسدان سالک انسٹیٹیوٹ سے فارغ امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل مزید مہنگا پاکستان اور آئی ایم ایف میں اقتصادی اصلاحات پر اہم مذاکرات پاکستان اور ایران میں تجارتی مذاکرات کے لیے اہم پیش رفت کراچی میں فاسٹ ٹریک پروجیکٹس اینڈ لاجسٹکس کو کسٹمز پورٹ کا درجہ دے دیا گیا پاکستان اور ویسٹ انڈیز کا پریکٹس میچ بغیر نتیجے کے ختم میا خلیفہ نے اسپین کی فتح پر بھاری شرط جیت لی پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن 2026-27 کا شیڈول جاری کر دیا گلیات ٹریل ریس، 400 سے زائد رنرز نے حصہ لیا
پاکستان خبر

افغانستان میں انسانی بحران اور سیکیورٹی خدشات میں اضافہ

افغانستان میں انسانی بحران اور سیکیورٹی خدشات میں اضافہ

کابل( مانیٹرنگ ڈیسک) افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں انسانی صورتحال اور خطے کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔بھارتی تھنک ٹینک ابزرور ریسرچ فاؤنڈیشن نے طالبان حکومت کے دور میں افغانستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو سنگین انسانی اور سیکیورٹی مسائل کا سامنا ہے۔رپورٹ کے مطابق مارچ 2026 میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے افغانستان کو مبینہ طور پر غیر قانونی حراستوں کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دیا تھا۔تھنک ٹینک کے مطابق دسمبر 2025 میں آسٹریلیا نے طالبان کے تین وزرا اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر سفری اور مالی پابندیاں عائد کیں، جبکہ طالبان کے اقتدار کے بعد افغانستان میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت نے خواتین کی تعلیم پر پابندیاں عائد کیں، سابق حکومت کے حامیوں اور اقلیتوں کو بھی حملوں اور مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان کے بجٹ کے ذرائع اور اخراجات کے نظام کو غیر شفاف قرار دیا گیا ہے۔تھنک ٹینک کے مطابق ملک کے بعض مالی وسائل دیگر شعبوں کے بجائے اسلحہ خریدنے پر خرچ کیے جانے کے خدشات بھی موجود ہیں، جبکہ القاعدہ اور دیگر شدت پسند گروہوں کی موجودگی خطے کے لیے سیکیورٹی خطرہ قرار دی گئی ہے۔سابق امریکی سفارت کار اور افغانستان امور کی ماہر ینی فورزہائمر کے مطابق انسانی حقوق، بالخصوص خواتین، اقلیتوں اور میڈیا سے متعلق صورتحال کے ساتھ ساتھ دہشت گرد گروہوں کو مبینہ پناہ دینا ایک بڑا مسئلہ ہے۔