تازہ ترین
پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار کلام پر رقص کرنے کی تنقید، عفت عمر نے وضاحت دے دی شاہ رخ خان کی سالگرہ پر مداحوں سے ملاقات منسوخ، وجہ سامنے آگئی مشہور بھارتی کرائم شو ’سی آئی ڈی‘ کے خالق بی پی سنگھ 77 برس کی عمر میں انتقال کرگئے ’مینگو جٹ‘ کے خلاف پیسے دے کر منفی مہم چلانے کا الزام 3 بار ایشین پیرا گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے والے نیرج یادیو گھر میں مردہ پائے گئے
پاکستان خبر

افغانستان میں انسانی بحران اور سیکیورٹی خدشات میں اضافہ

افغانستان میں انسانی بحران اور سیکیورٹی خدشات میں اضافہ

کابل( مانیٹرنگ ڈیسک) افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں انسانی صورتحال اور خطے کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔بھارتی تھنک ٹینک ابزرور ریسرچ فاؤنڈیشن نے طالبان حکومت کے دور میں افغانستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو سنگین انسانی اور سیکیورٹی مسائل کا سامنا ہے۔رپورٹ کے مطابق مارچ 2026 میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے افغانستان کو مبینہ طور پر غیر قانونی حراستوں کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دیا تھا۔تھنک ٹینک کے مطابق دسمبر 2025 میں آسٹریلیا نے طالبان کے تین وزرا اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر سفری اور مالی پابندیاں عائد کیں، جبکہ طالبان کے اقتدار کے بعد افغانستان میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت نے خواتین کی تعلیم پر پابندیاں عائد کیں، سابق حکومت کے حامیوں اور اقلیتوں کو بھی حملوں اور مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان کے بجٹ کے ذرائع اور اخراجات کے نظام کو غیر شفاف قرار دیا گیا ہے۔تھنک ٹینک کے مطابق ملک کے بعض مالی وسائل دیگر شعبوں کے بجائے اسلحہ خریدنے پر خرچ کیے جانے کے خدشات بھی موجود ہیں، جبکہ القاعدہ اور دیگر شدت پسند گروہوں کی موجودگی خطے کے لیے سیکیورٹی خطرہ قرار دی گئی ہے۔سابق امریکی سفارت کار اور افغانستان امور کی ماہر ینی فورزہائمر کے مطابق انسانی حقوق، بالخصوص خواتین، اقلیتوں اور میڈیا سے متعلق صورتحال کے ساتھ ساتھ دہشت گرد گروہوں کو مبینہ پناہ دینا ایک بڑا مسئلہ ہے۔