تازہ ترین
پاکستان خبر

اے آئی سے لیس مائیکرو ڈرون مچھروں کے خاتمے کے لیے تیار، نئی ٹیکنالوجی کا دعویٰ

اے آئی سے لیس مائیکرو ڈرون مچھروں کے خاتمے کے لیے تیار، نئی ٹیکنالوجی کا دعویٰ

نیویارک( ویب ڈیسک) امریکا کی ایک نئی ٹیکنالوجی کمپنی نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس ایک مائیکرو ڈرون تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جو ہوا میں اڑتے کیڑوں، خصوصاً مچھروں، کی شناخت کرکے ان کا تعاقب اور انہیں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔کمپنی کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی عملی طور پر کامیاب ثابت ہوئی تو مچھروں پر قابو پانے کی لاگت موجودہ طریقوں کے مقابلے میں 100 گنا تک کم کی جا سکتی ہے، جبکہ کیمیائی اسپرے جیسے ماحول پر منفی اثرات مرتب کرنے والے طریقوں کی ضرورت بھی کم ہو جائے گی۔وائی کومبینیٹر کی مالی معاونت سے قائم امریکی کمپنی ٹورنیول کے انجینیئرز کئی ماہ سے اس منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ کمپنی کا مقصد ایسے خودکار مائیکرو ڈرون تیار کرنا ہے جو شہری علاقوں میں مچھروں کو براہِ راست تلاش کرکے ختم کر سکیں۔کمپنی کے شریک بانی الیکس توسان نے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں مائیکرو ڈرون کو پہلی بار فضا میں اڑتے ایک کیڑے کا تعاقب کرتے اور اسے نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا۔ ویڈیو میں ڈرون ایک پتنگے کو نشانہ بناتا ہے، تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ مستقبل میں مچھروں کے خلاف استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔انجینیئرز کے مطابق ڈرون الٹراسونک لہریں خارج کرے گا اور متعدد مائیکروفونز کے ذریعے واپس آنے والی بازگشت کا تجزیہ کرے گا۔ مچھر کے پروں کی حرکت سے پیدا ہونے والی مخصوص ڈوپلر آواز کی مدد سے یہ نظام نظریاتی طور پر مچھروں کو دیگر کیڑوں سے الگ شناخت کر سکے گا۔کمپنی کے بانی الیکس توسان اور کلووس پیڈالو کا کہنا ہے کہ ان کا حتمی ہدف ایسے مائیکرو ڈرونز کے غول تیار کرنا ہے جو بڑے شہری علاقوں کو مچھروں سے پاک رکھنے میں مددگار ثابت ہوں۔ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی عملی آزمائشوں میں کامیاب ثابت ہوتی ہے تو ڈینگی، ملیریا اور مچھروں سے پھیلنے والی دیگر بیماریوں کی روک تھام میں اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم اس کے محفوظ، مؤثر اور وسیع پیمانے پر استعمال سے قبل مزید تحقیق اور فیلڈ ٹیسٹنگ کی ضرورت ہوگی۔