تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

چین کا چاند پر پیچیدہ مشن، قطب جنوبی سے برف اور پانی کی تلاش

چین کا چاند پر پیچیدہ مشن، قطب جنوبی سے برف اور پانی کی تلاش

بیجنگ( ویب ڈیسک)چین 24 اگست کو چاند کے قطب جنوبی کی جانب جدید خلائی مشن چینگ ای 7 روانہ کرے گا، جس کا مقصد وہاں موجود پانی اور برف کے شواہد، مقدار اور ساخت کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا ہے۔چینی حکام کے مطابق مشن کو لانگ مارچ 5 راکٹ کے ذریعے ہینان کے وین چانگ خلائی مرکز سے روانہ کیا جائے گا۔ اس میں آربٹر، لینڈر، روور اور ایک خاص ہوپر خلائی جہاز شامل ہوگا۔لانچ کے تقریباً پانچ روز بعد مشن چاند کے مدار میں داخل ہوگا، جہاں آربٹر لینڈنگ کے لیے موزوں مقام کا تعین کرے گا۔ ہوپر چاند کے قطب جنوبی کے تاریک گڑھوں پر متعدد پروازیں کرکے ان علاقوں کا جائزہ لے گا اور سطحی تجزیے میں بھی مدد دے گا۔سائنس دان چاند کے اس خطے میں پانی کے بخارات کے شواہد ریموٹ سینسنگ کے ذریعے حاصل کرچکے ہیں، تاہم وہاں برف اور پانی کی براہِ راست پیمائش یا نمونوں کا حصول اب تک ممکن نہیں ہوسکا۔چینگ ای 7 مشن چین کے 2030 کے انسان بردار قمری پروگرام کے لیے تکنیکی بنیاد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ مشن میں مختلف ممالک کے سائنسی آلات اور تحقیقاتی پے لوڈز بھی شامل ہوں گے۔چین اس سے قبل 2020 میں چینگ ای 5 اور 2024 میں چینگ ای 6 کے ذریعے چاند سے نمونے زمین پر لاچکا ہے۔