تازہ ترین
آزاد کشمیر انتخابات: 30 ہزار سرکاری ملازمین نے ووٹ ڈال دیے خیبرپختونخوا میں تعلیمی منصوبوں کی تاخیر، لاگت میں کروڑوں کا اضافہ مون سون تباہی، مختلف علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نقصانات عمران خان سے ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب، سپریم کورٹ کا جیل انتظامیہ کو حکم اگر ایران اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لاتا ہے تو سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے: امریکہ بھارت امریکا تعلقات میں سرد مہری، مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک زور پکڑنے لگی بھارت میں ’کاکروچ تحریک‘ کا احتجاج جاری، پارلیمان مارچ کی تیاری پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا درآمدی بل 16.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا پاکستانی فری لانسرز نے 1.76 ارب ڈالر کما کر نیا ریکارڈ قائم کردیا اسپین اضافی وقت میں ارجنٹینا کو ہرا کر دوسری بار عالمی چیمپئن بن گیا لامین یمال کا ننھے بھائی کے ساتھ جشن سوشل میڈیا پر وائرل لامین یمال اور ٹرمپ کا مصافحہ سوشل میڈیا پر وائرل ورلڈ کپ جیتنے پر اسپین کو 5 کروڑ ڈالر کا انعام
پاکستان خبر

بھارتی چینل اے بی پی نیوز پر مبینہ سائبر حملہ، نشریات اور ایپس متاثر

بھارتی چینل اے بی پی نیوز پر مبینہ سائبر حملہ، نشریات اور ایپس متاثر

نئی دہلی ( مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نامعلوم ہیکرز نے ایک اور بڑے بھارتی نیوز چینل اے بی پی نیوز (ABP News) کو سائبر حملے کا نشانہ بنایا، جس کے باعث چینل کی نشریات اور ڈیجیٹل سروسز متاثر ہوئیں۔رپورٹس کے مطابق حملے کے نتیجے میں اے بی پی نیوز کی نشریات کچھ وقت کے لیے معطل ہو گئیں جبکہ چینل کی اینڈرائیڈ اور آئی او ایس موبائل ایپلی کیشنز بھی متاثر ہوئیں۔دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہیکرز نے بعض آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر قرآنی آیات اور ایک ویڈیو بھی نشر کی، تاہم اس حوالے سے چینل کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔اے بی پی نیوز بھارت کے بڑے نجی نیوز چینلز میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا یوٹیوب چینل تقریباً 15 ملین سبسکرائبرز رکھتا ہے جبکہ مختلف رپورٹس کے مطابق اس کی ماہانہ ویورشپ 124 ملین تک پہنچتی ہے۔یہ چینل 1998 میں اسٹار نیوز کے نام سے شروع ہوا تھا اور بعد ازاں اس کا نام تبدیل کر کے اے بی پی نیوز رکھ دیا گیا۔سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اگر ان اطلاعات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ واقعہ بھارت کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور سائبر سیکیورٹی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات میڈیا اداروں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے مزید مضبوط سیکیورٹی اقدامات کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔