تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

بھارتی چینل اے بی پی نیوز پر مبینہ سائبر حملہ، نشریات اور ایپس متاثر

بھارتی چینل اے بی پی نیوز پر مبینہ سائبر حملہ، نشریات اور ایپس متاثر

نئی دہلی ( مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نامعلوم ہیکرز نے ایک اور بڑے بھارتی نیوز چینل اے بی پی نیوز (ABP News) کو سائبر حملے کا نشانہ بنایا، جس کے باعث چینل کی نشریات اور ڈیجیٹل سروسز متاثر ہوئیں۔رپورٹس کے مطابق حملے کے نتیجے میں اے بی پی نیوز کی نشریات کچھ وقت کے لیے معطل ہو گئیں جبکہ چینل کی اینڈرائیڈ اور آئی او ایس موبائل ایپلی کیشنز بھی متاثر ہوئیں۔دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہیکرز نے بعض آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر قرآنی آیات اور ایک ویڈیو بھی نشر کی، تاہم اس حوالے سے چینل کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔اے بی پی نیوز بھارت کے بڑے نجی نیوز چینلز میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا یوٹیوب چینل تقریباً 15 ملین سبسکرائبرز رکھتا ہے جبکہ مختلف رپورٹس کے مطابق اس کی ماہانہ ویورشپ 124 ملین تک پہنچتی ہے۔یہ چینل 1998 میں اسٹار نیوز کے نام سے شروع ہوا تھا اور بعد ازاں اس کا نام تبدیل کر کے اے بی پی نیوز رکھ دیا گیا۔سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اگر ان اطلاعات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ واقعہ بھارت کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور سائبر سیکیورٹی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات میڈیا اداروں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے مزید مضبوط سیکیورٹی اقدامات کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔