تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

بھارتی چینل اے بی پی نیوز پر مبینہ سائبر حملہ، نشریات اور ایپس متاثر

بھارتی چینل اے بی پی نیوز پر مبینہ سائبر حملہ، نشریات اور ایپس متاثر

نئی دہلی ( مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نامعلوم ہیکرز نے ایک اور بڑے بھارتی نیوز چینل اے بی پی نیوز (ABP News) کو سائبر حملے کا نشانہ بنایا، جس کے باعث چینل کی نشریات اور ڈیجیٹل سروسز متاثر ہوئیں۔رپورٹس کے مطابق حملے کے نتیجے میں اے بی پی نیوز کی نشریات کچھ وقت کے لیے معطل ہو گئیں جبکہ چینل کی اینڈرائیڈ اور آئی او ایس موبائل ایپلی کیشنز بھی متاثر ہوئیں۔دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہیکرز نے بعض آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر قرآنی آیات اور ایک ویڈیو بھی نشر کی، تاہم اس حوالے سے چینل کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔اے بی پی نیوز بھارت کے بڑے نجی نیوز چینلز میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا یوٹیوب چینل تقریباً 15 ملین سبسکرائبرز رکھتا ہے جبکہ مختلف رپورٹس کے مطابق اس کی ماہانہ ویورشپ 124 ملین تک پہنچتی ہے۔یہ چینل 1998 میں اسٹار نیوز کے نام سے شروع ہوا تھا اور بعد ازاں اس کا نام تبدیل کر کے اے بی پی نیوز رکھ دیا گیا۔سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اگر ان اطلاعات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ واقعہ بھارت کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور سائبر سیکیورٹی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات میڈیا اداروں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے مزید مضبوط سیکیورٹی اقدامات کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔