تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

اے آئی کی تربیت کیلئے کتابوں کی قربانی، قدیم علمی ورثہ خطرے میں پڑ گیا

اے آئی کی تربیت کیلئے کتابوں کی قربانی، قدیم علمی ورثہ خطرے میں پڑ گیا

لاہور( ویب ڈیسک) مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو مزید طاقتور بنانے کے لیے دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں پرانی کتابوں سے مدد لے رہی ہیں، تاہم اس عمل کے باعث صدیوں پرانے علمی اور ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بعض ٹیک کمپنیاں بڑی تعداد میں قدیم کتابیں خرید کر انہیں جدید مشینوں کے ذریعے تیزی سے اسکین کر رہی ہیں تاکہ ان میں موجود معلومات کو اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جا سکے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسکیننگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بعض کتابوں کے اصل نسخے ضائع بھی کیے جا رہے ہیں، جس سے نایاب اور تاریخی کتب کے تحفظ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ تقریباً دو سال قبل شروع ہوا، جب فروری 2024 میں ایک بڑی اے آئی کمپنی نے ایک ایسے ماہر کو ذمہ داری سونپی جس کا مقصد دنیا بھر سے زیادہ سے زیادہ کتابیں جمع کرنا تھا۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کتابوں میں تاریخی، نایاب یا ثقافتی اہمیت رکھنے والے نسخے شامل ہیں تو ان کا خاتمہ انسانی علم اور تہذیبی ورثے کے لیے بڑا نقصان ثابت ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اے آئی کمپنیاں خاص طور پر 2022 سے پہلے شائع ہونے والی کتابوں کی تلاش میں ہیں، کیونکہ ان میں موجود مواد زیادہ تر انسانوں کی تخلیق کردہ تحریروں پر مشتمل ہے، جو مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔