ممبئی( شو بز ڈیسک) بالی ووڈ اداکارہ انوشکا شرما کے ایک آرڈر نے مالی مشکلات سے دوچار ممبئی کے ایک ریسٹورنٹ کے کاروبار کو نئی سمت دے دی۔بھارتی میڈیا کے مطابق ممبئی کے علاقے چیمبور میں ’دہلی سے‘ نامی ریسٹورنٹ دو بھائیوں جسپال سنگھ خالصہ اور مہندر سنگھ خالصہ نے اکتوبر 2021 میں شروع کیا تھا۔ابتدا میں یہ صرف 250 مربع فٹ کی ایک چھوٹی دکان تھی، جہاں 3 میزوں پر 9 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ کاروبار شروع ہونے کے چند ماہ بعد گاہکوں کی تعداد کم ہونے لگی اور ستمبر 2022 تک دونوں بھائی تقریباً 18 لاکھ روپے کے مقروض ہوگئے، جس کے بعد انہوں نے ریسٹورنٹ بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔اسی دوران معروف اسٹینڈ اپ کامیڈین ابھیشیک اپمنیو ریسٹورنٹ پہنچے اور وہاں کے چھولے بھٹورے کھانے کے بعد انسٹاگرام پر ان کی تعریف کی، جس کے نتیجے میں ریسٹورنٹ میں گاہکوں کی تعداد اچانک بڑھنے لگی۔ابھیشیک اپمنیو کی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے انوشکا شرما کو بھی ریسٹورنٹ کا علم ہوا۔ اداکارہ اس وقت اپنے شوہر اور کرکٹر ویرات کوہلی کے لیے ممبئی میں دہلی کے روایتی ذائقے والے چھولے بھٹورے تلاش کر رہی تھیں۔انوشکا شرما نے ریسٹورنٹ سے 2 پلیٹ چھولے بھٹورے آرڈر کیے اور انہیں ممبئی کے علاقے جوہو میں اپنے گھر منگوایا۔ریسٹورنٹ کے مالک جسپال سنگھ کے مطابق اس وقت ایک پلیٹ کی قیمت صرف 120 روپے تھی، جبکہ جوہو تک آنے جانے کا خرچ آرڈر کی رقم سے بھی زیادہ بنتا تھا۔ آرڈر کرنے والی خاتون نے اضافی ڈیلیوری چارجز ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی اور بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات مانگیں۔جسپال سنگھ نے بتایا کہ انہیں ابتدا میں شک ہوا کہ شاید کوئی مذاق یا فراڈ کیا جا رہا ہے، تاہم متعدد فون کالز کے بعد خاتون نے بتایا کہ وہ ویرات کوہلی کے گھر سے بات کر رہی ہیں۔کھانا پہنچانے کے بعد جسپال سنگھ کو دوبارہ فون آیا اور انوشکا شرما کی انسٹاگرام پوسٹ دیکھنے کے لیے کہا گیا۔ اداکارہ نے پوسٹ میں ممبئی میں دہلی جیسے چھولے بھٹورے ملنے پر خوشی کا اظہار کیا اور ریسٹورنٹ کا پتا بتانے پر ابھیشیک اپمنیو کا شکریہ بھی ادا کیا۔جسپال سنگھ کے مطابق انوشکا شرما کی پوسٹ سامنے آنے کے صرف آدھے گھنٹے بعد ریسٹورنٹ کے باہر گاہکوں کا بڑا ہجوم جمع ہوگیا۔ فون مسلسل بجنے لگے اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس کو بھی طلب کرنا پڑا۔جسپال سنگھ اور مہندر سنگھ کے مطابق اب ممبئی میں ریسٹورنٹ کی 4 برانچز ہیں، جہاں روزانہ 3 ہزار سے زائد پلیٹیں فروخت ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق مشکل دور میں ماہانہ فروخت تقریباً ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً 2 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔