تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

عاطف اسلم کی منفرد آواز نے بھارتی گلوکاروں کی نئی نسل متاثر کردیا

عاطف اسلم کی منفرد آواز نے بھارتی گلوکاروں کی نئی نسل متاثر کردیا

ممبئی( شوبز ڈیسک) معروف بھارتی گلوکار پالاش سین نے کہا ہے کہ پاکستانی گلوکار عاطف اسلم کی منفرد آواز اور انداز گائیکی نے بھارت میں مرد گلوکاروں کی ایک پوری نسل کو متاثر کیا ہے۔ایک حالیہ انٹرویو میں ساٹھ سالہ گلوکار پالاش سین کا کہنا تھا کہ عاطف اسلم کے بعد آنے والے متعدد گلوکاروں نے ان کے انداز کو اپنانے کی کوشش کی۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو تقریباً ہر گلوکار نے کسی نہ کسی مرحلے پر عاطف اسلم کے انداز میں گانے کی کوشش کی۔انہوں نے بتایا کہ ارجیت سنگھ بھی ایک زمانے میں عاطف اسلم کے انداز میں گانے کی کوشش کرتے تھے، تاہم بعد میں انہوں نے اپنا الگ اور منفرد انداز اختیار کر لیا۔ ان کے مطابق موسیقی کی دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی طاقتور اور منفرد آواز سامنے آتی ہے تو وہ مقبول گائیکی کے انداز کو بدل دیتی ہے۔پالاش سین نے مزید کہا کہ ماضی میں کمار سانو اور ابھجیت جیسے گلوکاروں پر محمد رفیع اور کشور کمار جیسے نامور گلوکاروں کا اثر نمایاں تھا۔ بااثر گلوکار ہمیشہ اپنی گائیکی سے گہرا اثر چھوڑتے ہیں اور بہت سے لوگ ان جیسا بننے کی کوشش کرتے ہیں۔یاد رہے کہ عاطف اسلم پاکستان سے ابھرنے والے کامیاب ترین گلوکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے بھارت سمیت پورے جنوبی ایشیا میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ انہوں نے دو ہزار کی دہائی کے آغاز میں اپنے بینڈ کے ساتھ گائے گئے گیت عادت سے شہرت حاصل کی۔بعد ازاں انہوں نے فلم عجب پریم کی غضب کہانی کے گیت تیرا ہونے لگا ہوں اور تو جانے نہ، فلم ریس کا گیت پہلی نظر میں، فلم رمیا وستاویا کا جینے لگا ہوں اور فلم ٹائیگر زندہ ہے کا دل دیاں گلاں گا کر بھی بے حد مقبولیت سمیٹی۔