تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

بلوچستان میں کم عمر لڑکیوں کو خودکش حملوں کیلئے استعمال کرنے کی کوشش ناکام

بلوچستان میں کم عمر لڑکیوں کو خودکش حملوں کیلئے استعمال کرنے کی کوشش ناکام

کوئٹہ( پاکستان خبر) وزیرِ داخلہ بلوچستان ضیاء لانگو نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرکے کالعدم تنظیم کی جانب سے کم عمر لڑکیوں کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کی مبینہ کوشش ناکام بنادی۔پریس کانفرنس میں ضیاء لانگو نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے تدارک کے لیے مسلسل سرگرم ہیں۔ ان کے مطابق جنوبی بلوچستان میں دہشت گرد عناصر نے کم عمر لڑکیوں کو ورغلا کر خودکش حملوں کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ 16 سالہ زینب اور 12 سالہ فاطمہ کو مبینہ طور پر بہلا پھسلا کر مکران سے ساتھ لے جایا گیا اور تقریباً 40 روز تک ایک مقام پر رکھا گیا، جہاں انہیں خودکش حملے کے لیے تیار کیا جارہا تھا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ تنظیم سے وابستہ افراد نے زینب کے شوہر سمیت اس کے خاندان کے 8 سے 10 افراد کو قتل کیا، جبکہ تنظیم کے ساتھ تعاون سے انکار کرنے پر سیف نامی شخص کو بھی قتل کردیا گیا۔ ان کے مطابق سیف کی ہلاکت کے بعد مقامی کمانڈر نے اس کی اہلیہ زینب سے رابطہ کیا۔ضیاء لانگو کا کہنا تھا کہ دہشت گرد عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرکے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت متاثرہ بچیوں کو تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔وزیرِ داخلہ نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف مسلسل کارروائیوں میں مصروف ہیں اور متعدد واقعات کو رونما ہونے سے پہلے ہی روک دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے کسی ایک واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھانے کے بجائے ان کارروائیوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے جن کے ذریعے کئی حملے ناکام بنائے جاتے ہیں۔