تازہ ترین
اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل نیمل خاور کا جسم پر تبصروں کے خلاف سخت ردعمل ڈاکٹر نبیہہ علی خان کا شوہر کیلئے گانا، ویڈیو وائرل قبر پر قوالی خاندانی روایت، راحت فتح علی خان کا وضاحتی بیان رمشا خان کی بہن کا انگریزی میں ’قبول ہے‘، ویڈیو وائرل نیوزی لینڈ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کا سوشل میڈیا ممنوع واٹس ایپ چینل ایڈمنز کیلئے اپڈیٹس شیڈول کرنے کا نیا فیچر
پاکستان خبر

جنگلاتی آگ بجھانے کیلئے خودکار ڈرونز کی آزمائش

جنگلاتی آگ بجھانے کیلئے خودکار ڈرونز کی آزمائش

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) امریکا میں جنگلات کی آگ پر قابو پانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے مزین خودکار ڈرونز کا تجربہ کیا جا رہا ہے، جن کا مقصد آگ کو پھیلنے سے پہلے ہی شناخت کرکے ابتدائی مرحلے میں بجھانا ہے۔کیلیفورنیا کے محکمہ جنگلات و فائر پروٹیکشن نے حال ہی میں خودکار فائر فائٹنگ ڈرونز آزمائے، جبکہ الاسکا میں بھی ابتدائی درجے کی آگ کا سراغ لگانے اور اسے بجھانے کے لیے خودکار نظاموں کا تجربہ کیا گیا۔کیلیفورنیا میں استعمال کیے گئے ڈرونز میں مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر وژن اور مختلف سینسرز نصب ہیں، جو آگ کی نشاندہی کرکے متاثرہ مقام تک فائر فائٹنگ فوم پہنچا سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی بالخصوص ایسے دور دراز علاقوں کے لیے تیار کی جا رہی ہے جہاں زمینی عملے یا بڑے طیاروں کو پہنچنے میں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔الاسکا میں شمسی توانائی سے چلنے والے سینسرز نے جنگلات میں آگ کے ابتدائی آثار کا پتا لگایا، جس کے بعد ایک مشاہداتی ڈرون نے خودکار پرواز کرکے آگ کی تصدیق کی اور دوسرا ڈرون اسے بجھانے کے لیے پہنچ گیا۔ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی بڑے فائر فائٹنگ طیاروں کا متبادل نہیں بلکہ معاون ثابت ہوسکتی ہے، جبکہ اس کا اہم فائدہ آگ لگنے کے ابتدائی منٹوں میں فوری کارروائی ہے۔تاہم خراب موسم، دشوار گزار علاقوں، محدود گنجائش اور دیگر طیاروں کے ساتھ محفوظ رابطہ اب بھی بڑے چیلنجز ہیں۔ امریکا کی بعض فائر ایجنسیاں ان ڈرونز کو تجرباتی مرحلے سے نکال کر عملی کارروائیوں میں استعمال کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔