تازہ ترین
پاکستان سعودی دفاعی تعاون جاری، معاہدے پر عمل میں وقت لگے گا اسحاق ڈار کی حاقان فیدان سے گفتگو، فلسطین پر اتفاق بلوچستان میں 25 لیڈی میڈیکل افسران ملازمت سے برطرف جنگ ستمبر، پاک فوج کی جوابی کارروائی سے بھارتی فوج پسپا یمنی سفیر کا ایران پر حوثیوں کو استعمال کرنے کا الزام پاکستان کا ایران سے حوثیوں کے حملے رکوانے کا مطالبہ ایران جنگ 2029 تک جاری رہنے کا خدشہ، امریکی میڈیا حوثیوں نے بحیرہ احمر کے اہم ساحلی شہر موخا پر قبضہ کرلیا وزیراعظم نے آٹو پالیسی 2026 کی منظوری دے دی اسٹاک مارکیٹ میں مندی، 100 انڈیکس 170 ہزار کی سطح سے نیچے صرف ستمبر میں پٹرول 28 اور ڈیزل 22 روپے فی لٹر مہنگا ہوا: رپورٹ امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوگیا این سی سی آئی اے نے امام الحق اور رضوان کو طلب کرلیا فیفا آسیان کپ، پاکستان گروپ بی میں تھائی لینڈ سے مقابلہ کرے گا سابق پاکستانی آل راؤنڈر انور علی کو امریکی ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر سیف گیمز کی میزبانی، کھیلوں کے مراکز کیلئے 5.7 ارب منظور
پاکستان خبر

جنگلاتی آگ بجھانے کیلئے خودکار ڈرونز کی آزمائش

جنگلاتی آگ بجھانے کیلئے خودکار ڈرونز کی آزمائش

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) امریکا میں جنگلات کی آگ پر قابو پانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے مزین خودکار ڈرونز کا تجربہ کیا جا رہا ہے، جن کا مقصد آگ کو پھیلنے سے پہلے ہی شناخت کرکے ابتدائی مرحلے میں بجھانا ہے۔کیلیفورنیا کے محکمہ جنگلات و فائر پروٹیکشن نے حال ہی میں خودکار فائر فائٹنگ ڈرونز آزمائے، جبکہ الاسکا میں بھی ابتدائی درجے کی آگ کا سراغ لگانے اور اسے بجھانے کے لیے خودکار نظاموں کا تجربہ کیا گیا۔کیلیفورنیا میں استعمال کیے گئے ڈرونز میں مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر وژن اور مختلف سینسرز نصب ہیں، جو آگ کی نشاندہی کرکے متاثرہ مقام تک فائر فائٹنگ فوم پہنچا سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی بالخصوص ایسے دور دراز علاقوں کے لیے تیار کی جا رہی ہے جہاں زمینی عملے یا بڑے طیاروں کو پہنچنے میں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔الاسکا میں شمسی توانائی سے چلنے والے سینسرز نے جنگلات میں آگ کے ابتدائی آثار کا پتا لگایا، جس کے بعد ایک مشاہداتی ڈرون نے خودکار پرواز کرکے آگ کی تصدیق کی اور دوسرا ڈرون اسے بجھانے کے لیے پہنچ گیا۔ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی بڑے فائر فائٹنگ طیاروں کا متبادل نہیں بلکہ معاون ثابت ہوسکتی ہے، جبکہ اس کا اہم فائدہ آگ لگنے کے ابتدائی منٹوں میں فوری کارروائی ہے۔تاہم خراب موسم، دشوار گزار علاقوں، محدود گنجائش اور دیگر طیاروں کے ساتھ محفوظ رابطہ اب بھی بڑے چیلنجز ہیں۔ امریکا کی بعض فائر ایجنسیاں ان ڈرونز کو تجرباتی مرحلے سے نکال کر عملی کارروائیوں میں استعمال کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔