تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

نئے ویب صفحات کا 35 فیصد مواد اے آئی سے تیار ہونے کا انکشاف

نئے ویب صفحات کا 35 فیصد مواد اے آئی سے تیار ہونے کا انکشاف

نیویارک( ویب ڈیسک) نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ انٹرنیٹ پر شائع ہونے والے نئے ویب صفحات میں ایک تہائی سے زائد پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے تحریر یا تدوین کیے جانے کے شواہد ملے ہیں۔پیُو ریسرچ سینٹر کے مطابق نئے ویب صفحات میں تقریباً 35 فیصد پر مصنوعی ذہانت کے نمایاں استعمال کے آثار پائے گئے۔ تحقیق کے لیے گزشتہ پانچ برسوں میں جمع کیے گئے تقریباً 5 لاکھ انگریزی ویب صفحات کے ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا۔محققین نے صفحات کے متن کو ایک ایسے پروگرام کے ذریعے جانچا جو تحریر میں مصنوعی ذہانت کے ممکنہ استعمال کا اندازہ لگاتا ہے۔ مجموعی طور پر تقریباً 10 فیصد صفحات میں اے آئی سے تحریر کے واضح آثار ملے، تاہم چیٹ جی پی ٹی کے اجرا کے بعد شائع ہونے والے صفحات میں یہ شرح 35 فیصد تک پہنچ گئی۔تحقیق ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ماہرین اور صارفین میں ان خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے کہ خودکار نظام اور بوٹس انٹرنیٹ پر مواد کی تیاری اور استعمال میں انسانوں کی جگہ تیزی سے لے رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق اے آئی سے تیار مواد اور بوٹس کی بڑھتی سرگرمی کے باعث مستقبل میں انسانی اور مصنوعی مواد میں فرق کرنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔