تازہ ترین
میکسیکو میں مذہبی میلے کے دوران دھماکا، 10 افراد ہلاک نئی دہلی میں ہاسٹل کی عمارت منہدم، 7 طلبہ ہلاک اسرائیل میں کائی کا پھیلاؤ، دو پانی صاف کرنے والے پلانٹس بند بغداد بک فیئر میں 28 ممالک کی ریکارڈ شرکت عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی چیری کیو متعارف، ایک چارج پر 400 کلومیٹر سفر ممکن ایس ای سی پی نے بزنس ریڈی رینکنگ بہتر بنانے کے اقدامات منظور کرلیے کم کاربن پیداوار پاکستانی برآمدی صنعت کی نئی ضرورت بن گئی سرفراز احمد کو ہٹانے کی مبینہ وجہ سامنے آگئی پی سی بی نے کھلاڑیوں کے رویے سے متعلق انکوائری شروع کردی فاطمہ نسیم نے بھارتی کھلاڑی کا ریکارڈ توڑ کر 10 عالمی ریکارڈ بنالیے جنوبی افریقا نے زمبابوے کو شکست دے کر سہ ملکی سیریز جیت لی شاہ رخ خان انڈر ورلڈ کے سامنے ڈٹ گئے، سنجے گپتا کا انکشاف نارتھ ویسٹ کا پہلا ہیڈلائن کنسرٹ، کم اور کانیے پھر اکٹھے کیانو ریوز کی شادی نہ کرنے کی مبینہ وجہ سامنے آگئی ایشا رکھی نے بادشاہ سے تعلق کو زندگی کا بدترین دور قرار دے دیا
پاکستان خبر

نئے ویب صفحات کا 35 فیصد مواد اے آئی سے تیار ہونے کا انکشاف

نئے ویب صفحات کا 35 فیصد مواد اے آئی سے تیار ہونے کا انکشاف

نیویارک( ویب ڈیسک) نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ انٹرنیٹ پر شائع ہونے والے نئے ویب صفحات میں ایک تہائی سے زائد پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے تحریر یا تدوین کیے جانے کے شواہد ملے ہیں۔پیُو ریسرچ سینٹر کے مطابق نئے ویب صفحات میں تقریباً 35 فیصد پر مصنوعی ذہانت کے نمایاں استعمال کے آثار پائے گئے۔ تحقیق کے لیے گزشتہ پانچ برسوں میں جمع کیے گئے تقریباً 5 لاکھ انگریزی ویب صفحات کے ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا۔محققین نے صفحات کے متن کو ایک ایسے پروگرام کے ذریعے جانچا جو تحریر میں مصنوعی ذہانت کے ممکنہ استعمال کا اندازہ لگاتا ہے۔ مجموعی طور پر تقریباً 10 فیصد صفحات میں اے آئی سے تحریر کے واضح آثار ملے، تاہم چیٹ جی پی ٹی کے اجرا کے بعد شائع ہونے والے صفحات میں یہ شرح 35 فیصد تک پہنچ گئی۔تحقیق ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ماہرین اور صارفین میں ان خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے کہ خودکار نظام اور بوٹس انٹرنیٹ پر مواد کی تیاری اور استعمال میں انسانوں کی جگہ تیزی سے لے رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق اے آئی سے تیار مواد اور بوٹس کی بڑھتی سرگرمی کے باعث مستقبل میں انسانی اور مصنوعی مواد میں فرق کرنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔