تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

نیوزی لینڈ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کا سوشل میڈیا ممنوع

نیوزی لینڈ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کا سوشل میڈیا ممنوع

ویلنگٹن( ویب ڈیسک) نیوزی لینڈ نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم یہ پابندی فوری طور پر نافذ نہیں ہوگی۔وزیراعظم کرسٹوفر لکسن نے 24 اگست 2026 کو اعلان کیا کہ حکومت اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ میں نیا قانون پیش کرے گی۔ مجوزہ قانون کے تحت 16 سال سے کم عمر افراد سوشل میڈیا اکاؤنٹس استعمال نہیں کرسکیں گے، جبکہ پلیٹ فارمز کو صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔عمر کی تصدیق کے لیے موجودہ اکاؤنٹ کی معلومات، چہرے کی شناخت اور سماجی ڈیجیٹل شناختی دستاویزات سمیت مختلف طریقے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے پلیٹ فارمز پر ان کی عالمی آمدنی کے 10 فیصد تک جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔وزیراعظم لکسن کے مطابق سوشل میڈیا نوجوانوں کو نقصان دہ مواد، عادی بنانے والی ٹیکنالوجی اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرا رہا ہے، جس کے اثرات ان کی ذہنی صحت، نیند، تعلیم اور خاندانی زندگی پر پڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت تسلیم کرتی ہے کہ پابندی پر مکمل عمل درآمد آسان نہیں ہوگا، تاہم مسئلے کی سنگینی کے باعث یہ اقدام ضروری ہے۔