تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

آیوش شرما کو دھمکی آمیز ای میل، ممبئی پولیس نے تفتیش شروع کر دی

آیوش شرما کو دھمکی آمیز ای میل، ممبئی پولیس نے تفتیش شروع کر دی

ممبئی(شوبز ڈیسک)بالی ووڈ اسٹار سلمان خان کے بہنوئی اور اداکار آیوش شرما کو بھی دیگر فنکاروں کی طرح دھمکی موصول ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد شوبز حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی بہن ارپیتا خان کے شوہر آیوش شرما کو ایک دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ پیغام لارنس بشنوئی گینگ سے وابستہ فرد کی جانب سے بھیجا گیا ہے۔اس سے ایک روز قبل اداکار رنویر سنگھ کو بھی واٹس ایپ پر وائس میسج کے ذریعے دھمکی دی گئی تھی اور مبینہ طور پر کروڑوں بھارتی روپے بطور بھتہ طلب کیے گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد ان کی رہائش گاہ کے باہر سیکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔ممبئی کرائم برانچ نے تصدیق کی ہے کہ آیوش شرما کو پروٹون میل کے ذریعے دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی ہے۔ پولیس نے ای میل بھیجنے والے کا سراغ لگانے اور دھمکی کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا یہ ای میل ملک کے اندر سے بھیجی گئی یا بیرونِ ملک سے۔