ممبئی( شو بز ڈیسک)معروف بھارتی نغمہ نگار جاوید اختر نے بھارتی فلمی موسیقی پر مغربی ثقافت کے بڑھتے اثرات اور موجودہ دور کے گانوں میں معنی کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔فلم ’1942: اے لو اسٹوری‘ کی دوبارہ نمائش کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جاوید اختر نے کہا کہ مغربی ثقافت اور سینما کے اثرات کے باعث نئی نسل فلمی گانوں کی روایتی موجودگی کو غیر حقیقی سمجھنے لگی ہے، جو ان کے لیے باعثِ افسوس ہے۔انہوں نے کہا کہ فن کا مقصد صرف حقیقت کی عکاسی نہیں بلکہ خوبصورتی اور ناظرین کے تجربے میں اضافہ کرنا بھی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ دور کے گانوں میں یا تو دوہرے معنی والے الفاظ استعمال ہوتے ہیں یا پھر ایسا مواد پیش کیا جاتا ہے جس کا کوئی واضح مفہوم نہیں ہوتا۔جاوید اختر نے فلم سازی کے بدلتے انداز کو بھی موسیقی میں آنے والی تبدیلی کی بڑی وجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق گانے اب کہانی کا اہم حصہ بننے کے بجائے اکثر پس منظر تک محدود ہوگئے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا فن پر حقیقت پسند ہونے کی پابندی عائد ہے؟ ان کے بقول اچھے گانے کی اصل قدر یہ ہے کہ وہ ناظرین کے تجربے کو بہتر بنائے اور انہیں خوبصورتی اور معنویت کا احساس دلائے۔
جاوید اختر بھارتی فلمی موسیقی کے زوال پر برہم، نئی نسل کے سوالات کا ذکر
واپس خبروں پر
Category:
تفریح