تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

جاوید اختر بھارتی فلمی موسیقی کے زوال پر برہم، نئی نسل کے سوالات کا ذکر

جاوید اختر بھارتی فلمی موسیقی کے زوال پر برہم، نئی نسل کے سوالات کا ذکر

ممبئی( شو بز ڈیسک)معروف بھارتی نغمہ نگار جاوید اختر نے بھارتی فلمی موسیقی پر مغربی ثقافت کے بڑھتے اثرات اور موجودہ دور کے گانوں میں معنی کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔فلم ’1942: اے لو اسٹوری‘ کی دوبارہ نمائش کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جاوید اختر نے کہا کہ مغربی ثقافت اور سینما کے اثرات کے باعث نئی نسل فلمی گانوں کی روایتی موجودگی کو غیر حقیقی سمجھنے لگی ہے، جو ان کے لیے باعثِ افسوس ہے۔انہوں نے کہا کہ فن کا مقصد صرف حقیقت کی عکاسی نہیں بلکہ خوبصورتی اور ناظرین کے تجربے میں اضافہ کرنا بھی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ دور کے گانوں میں یا تو دوہرے معنی والے الفاظ استعمال ہوتے ہیں یا پھر ایسا مواد پیش کیا جاتا ہے جس کا کوئی واضح مفہوم نہیں ہوتا۔جاوید اختر نے فلم سازی کے بدلتے انداز کو بھی موسیقی میں آنے والی تبدیلی کی بڑی وجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق گانے اب کہانی کا اہم حصہ بننے کے بجائے اکثر پس منظر تک محدود ہوگئے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا فن پر حقیقت پسند ہونے کی پابندی عائد ہے؟ ان کے بقول اچھے گانے کی اصل قدر یہ ہے کہ وہ ناظرین کے تجربے کو بہتر بنائے اور انہیں خوبصورتی اور معنویت کا احساس دلائے۔