تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

بدخشان میں جھڑپیں، طالبان کے کنٹرول کے دعوؤں پر سوالات

بدخشان میں جھڑپیں، طالبان کے کنٹرول کے دعوؤں پر سوالات

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے صوبہ بدخشان کے اضلاع یفتل اور زیباک میں ہونے والی حالیہ جھڑپوں نے طالبان حکومت کے ملک پر مکمل کنٹرول کے دعوؤں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔افغان طالبان مخالف مسلح گروپ افغانستان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے کابل سے بدخشان جانے والے طالبان کے فوجی قافلے کو راکٹ حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 7 طالبان اہلکار ہلاک جبکہ 6 سے زائد زخمی ہوئے۔افغانستان فریڈم فرنٹ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کے جنگجوؤں نے کابل سے شمالی سالنگ تک طالبان کے فوجی قافلے کی نقل و حرکت پر نظر رکھی۔بیان کے مطابق طالبان کا یہ قافلہ بدخشان میں تعیناتی کے لیے اضافی نفری اور فوجی سازوسامان منتقل کر رہا تھا۔افغانستان فریڈم فرنٹ نے مزید دعویٰ کیا کہ اس سے قبل ہفتے کے روز ضلع زیباک میں اس کے جنگجوؤں نے طالبان کے دو فوجی ڈرونز بھی مار گرائے تھے۔واضح رہے کہ ان واقعات سے متعلق طالبان حکام کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال پر مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔