تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

بدخشان میں جھڑپیں، طالبان کے کنٹرول کے دعوؤں پر سوالات

بدخشان میں جھڑپیں، طالبان کے کنٹرول کے دعوؤں پر سوالات

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے صوبہ بدخشان کے اضلاع یفتل اور زیباک میں ہونے والی حالیہ جھڑپوں نے طالبان حکومت کے ملک پر مکمل کنٹرول کے دعوؤں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔افغان طالبان مخالف مسلح گروپ افغانستان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے کابل سے بدخشان جانے والے طالبان کے فوجی قافلے کو راکٹ حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 7 طالبان اہلکار ہلاک جبکہ 6 سے زائد زخمی ہوئے۔افغانستان فریڈم فرنٹ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کے جنگجوؤں نے کابل سے شمالی سالنگ تک طالبان کے فوجی قافلے کی نقل و حرکت پر نظر رکھی۔بیان کے مطابق طالبان کا یہ قافلہ بدخشان میں تعیناتی کے لیے اضافی نفری اور فوجی سازوسامان منتقل کر رہا تھا۔افغانستان فریڈم فرنٹ نے مزید دعویٰ کیا کہ اس سے قبل ہفتے کے روز ضلع زیباک میں اس کے جنگجوؤں نے طالبان کے دو فوجی ڈرونز بھی مار گرائے تھے۔واضح رہے کہ ان واقعات سے متعلق طالبان حکام کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال پر مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔