تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

کرپٹو کمپنیوں کیلئے بینک اکاؤنٹس کی اجازت، سٹیٹ بینک کا بڑا فیصلہ

کرپٹو کمپنیوں کیلئے بینک اکاؤنٹس کی اجازت، سٹیٹ بینک کا بڑا فیصلہ

کراچی ( کامرس ڈیسک) مالیاتی شعبے سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کرپٹو کمپنیوں کو بینک اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔حکومت کی جانب سے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے نفاذ کے بعد، سٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی سے لائسنس یافتہ کرپٹو کمپنیاں اب بینکوں میں اکاؤنٹس قائم کر سکیں گی۔سٹیٹ بینک کے مطابق یہ اکاؤنٹس کلائنٹ منی اکاؤنٹس کے نام سے کھولے جائیں گے، جن کے ذریعے پہلی بار کرپٹو کمپنیوں کو بینکاری نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔سرکلر کے مطابق ان اکاؤنٹس میں براہِ راست رقم جمع یا نکلوانے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ بینک نہ تو اپنے فنڈز اور نہ ہی صارفین کی رقم کو کرپٹو لین دین کے لیے استعمال کریں گے۔ مزید یہ کہ یہ اکاؤنٹس صرف پاکستانی روپے میں آن لائن لین دین کے لیے مخصوص ہوں گے۔بینکنگ پالیسی کے تحت یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کرپٹو اکاؤنٹس صرف ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کے لیے استعمال ہوں گے، انہیں قرض یا ضمانت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکے گا اور نہ ہی ان پر کسی قسم کا منافع دیا جائے گا۔سٹیٹ بینک نے ہدایت کی ہے کہ ملک کے تمام بینک ان اکاؤنٹس کی سخت نگرانی کریں اور خطرات کے پیش نظر اپنے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق اپڈیٹ کریں۔