تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

بین اسٹوکس کی کپتانی خطرے میں، نائٹ کلب واقعے پر انگلینڈ بورڈ کی تحقیقات شروع

بین اسٹوکس کی کپتانی خطرے میں، نائٹ کلب واقعے پر انگلینڈ بورڈ کی تحقیقات شروع

 انگلینڈ( سپورٹس ڈیسک)انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان بین اسٹوکس اور فاسٹ بولر گس ایٹکنسن نائٹ کلب میں پیش آنے والے مبینہ واقعے کے بعد مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں، جس کے باعث کپتانی میں تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ امکان ہے کہ بین اسٹوکس کی جگہ نوجوان کھلاڑی ہیری بروک کو نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں ٹیم کی قیادت سونپی جا سکتی ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نائٹ کلب میں کھلاڑیوں اور ایک رگبی کھلاڑی کے درمیان جھگڑا ہوا، جس کے دوران مبینہ طور پر ایک فاسٹ بولر نے رگبی کھلاڑی کو مکا مارا۔ واقعے میں بورڈ کے سیکیورٹی اہلکار کو بھی چوٹ آئی، تاہم کرکٹرز محفوظ رہے۔انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے مطابق کھلاڑیوں نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے، جس پر سخت تادیبی کارروائی کا امکان ہے۔ تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق صورتحال کو مکمل طور پر پرتشدد قرار نہیں دیا گیا اور پولیس کو بھی اس واقعے میں شامل نہیں کیا گیا۔