تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

فتنہ الہندوستان کے گرفتار دہشت گرد کے سنسنی خیز انکشافات

فتنہ الہندوستان کے گرفتار دہشت گرد کے سنسنی خیز انکشافات

کو ئٹہ( پاکستان خبر)سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران گرفتار کیے گئے فتنہ الہندوستان کے ایک دہشت گرد نے دوران تفتیش اہم انکشافات کیے ہیں۔گرفتار دہشت گرد حبیب اللہ کا تعلق ضلع خضدار کی تحصیل اورناچ کے علاقے سیراندوہ سے ہے۔ حبیب اللہ نے بتایا کہ دہشت گرد تنظیم نے اسے جھوٹے وعدوں اور مالی لالچ کے ذریعے اپنے گروہ میں شامل کیا، جس کے بعد اسے چنل دشت منتقل کیا گیا جہاں اس کی ذہن سازی کی گئی اور بعد ازاں سرگڑھ کیمپ میں دہشت گردی کی تربیت دی گئی۔حبیب اللہ کے مطابق سرگڑھ کیمپ میں اسے اسلحہ چلانے، بارودی مواد استعمال کرنے، گھات لگا کر حملے کرنے، کارروائیوں کے بعد شناخت چھپانے اور فرار ہونے کے طریقے سکھائے گئے۔ اس نے اعتراف کیا کہ صرف 25 ہزار روپے کے عوض اس نے اپنے ہی بلوچ بھائیوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیا۔گرفتار دہشت گرد نے بتایا کہ فتنہ الہندوستان کی ذیلی تنظیم بی وائی سی کے دھرنوں کے دوران اس کی شناخت ہوئی۔ وہ دہشت گرد گروہوں تک اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد، خوراک اور ادویات پہنچاتا رہا جبکہ سنارو کیمپ، خضدار، نال اور بیلہ سمیت مختلف حملوں میں بھی شریک رہا۔حبیب اللہ نے انکشاف کیا کہ ہر دہشت گرد کارروائی سے پہلے تنظیم کی جانب سے اسلحہ، ہدایات اور رابطوں کی سہولت فراہم کی جاتی تھی۔ اس کے مطابق دہشت گرد کارروائیوں میں شرکت کے بدلے رقم دی جاتی تھی، جبکہ خضدار اور بیلہ حملوں کے بعد اسے 25، 25 ہزار روپے بطور معاوضہ دیے گئے۔گرفتار دہشت گرد نے مزید بتایا کہ خضدار پولیس چیک پوسٹ پر حملے کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے دو شہری جاں بحق ہوئے۔ اس نے کہا کہ اس کے کئی ساتھی روزگار کے مسائل کے باعث دہشت گرد تنظیموں کا حصہ بنے، جہاں انہیں بہتر مستقبل کا جھانسہ دے کر شامل کیا جاتا ہے اور بعد میں بلیک میل کیا جاتا ہے تاکہ وہ واپس نہ جا سکیں۔