تازہ ترین
لانگ مارچ یا شارٹ مارچ پر اعتراض نہیں، دہشت گردی کے خاتمے پر بات کریں: طلال چوہدری پیپلز پارٹی اقتدار کی خواہش مند نہیں، مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے: شرجیل میمن ہوائی قلعے نہیں بنائے، عوامی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا گیا: مریم نواز خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ معدنیاتی لائسنس پی ٹی آئی دور میں جاری ہوئے: خواجہ آصف ٹرمپ کا سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف اسرائیلی مدد قبول کرنے کا مشورہ غزہ میں اسرائیلی ڈرون حملہ، ایک فلسطینی شہید اور متعدد زخمی مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا حملہ، امریکی صحافی سمیت متعدد زخمی خطے میں کسی بھی محاذ پر جنگ جاری رہنا امن کے لیے خطرہ ہے، ایران سرکاری خریداری میں گٹھ جوڑ پکڑنے کے لیے سی سی پی کا اے آئی نظام تیار بجلی فی یونٹ 2 روپے 56 پیسے مہنگی کرنے کی تیاری ایف بی آر کی اصلاحات کے لیے سیاسی مداخلت کا خاتمہ ناگزیر قرار آئی ایم ایف نے مصنوعی ذہانت، مہنگائی اور قرضوں کو عالمی معیشت کے بڑے خطرات قرار دے دیا ٹیسلا کی اڑنے والی کار کا مظاہرہ، پیداوار 2028 میں شروع کرنے کا اعلان ٹیک کرنچ 2026 میں پاکستان کی شرکت، ملکی ٹیکنالوجی عالمی سطح پر متعارف ایپل کے فولڈ ایبل آئی فون کی پری آرڈر بکنگ آدھے گھنٹے میں بھر گئی کوڈنگ اسائنمنٹ کے دوران چیٹ جی پی ٹی ماڈل کی کرپٹو والیٹس سے رقم چرانے کی کوشش
پاکستان خبر

سرکاری خریداری میں گٹھ جوڑ پکڑنے کے لیے سی سی پی کا اے آئی نظام تیار

سرکاری خریداری میں گٹھ جوڑ پکڑنے کے لیے سی سی پی کا اے آئی نظام تیار

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے سرکاری خریداری میں بولیوں کی ملی بھگت اور ممکنہ دھاندلیوں کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام تیار کرلیا ہے۔چیئرمین سی سی پی فرید احمد تارڑ کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 60 ارب ڈالر سرکاری خریداری پر خرچ کیے جاتے ہیں، جو ملکی مجموعی قومی پیداوار کا 15 سے 20 فیصد بنتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھربوں روپے کی سرکاری خریداری کی نگرانی صرف شکایات اور دستی جانچ کے ذریعے ممکن نہیں۔ نیا اے آئی نظام تحقیقاتی وسائل کو مشتبہ اور زیادہ خطرے والے معاملات پر مرکوز کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔سی سی پی نے واضح کیا ہے کہ نظام کی جانب سے جاری ہونے والے الرٹس کسی خلاف ورزی یا کارٹل کے وجود کا حتمی ثبوت نہیں ہوں گے۔ ہر معاملے کی آزادانہ تصدیق، شواہد اکٹھے کرنے اور قانونی جانچ پڑتال ضروری ہوگی۔بولیوں میں ملی بھگت کی نشاندہی کرنے والا یہ نظام نفاذ سے قبل تیاری کے جدید مرحلے میں ہے۔ اسے اسٹینفورڈ کی عالمی مسابقت مخالف سرگرمیوں سے متعلق رپورٹ میں بھی شامل کیا گیا ہے، جس میں دنیا بھر کے 30 مسابقتی اداروں کے تجربات پیش کیے گئے ہیں۔نظام کے نفاذ کے لیے وفاقی اور صوبائی پروکیورمنٹ اتھارٹیز سمیت سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے ساتھ ادارہ جاتی مفاہمت طے پاچکی ہے۔ اس اقدام سے سرکاری خریداری میں منصفانہ مسابقت اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کو فروغ دینے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔