تازہ ترین
لانگ مارچ یا شارٹ مارچ پر اعتراض نہیں، دہشت گردی کے خاتمے پر بات کریں: طلال چوہدری پیپلز پارٹی اقتدار کی خواہش مند نہیں، مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے: شرجیل میمن ہوائی قلعے نہیں بنائے، عوامی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا گیا: مریم نواز خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ معدنیاتی لائسنس پی ٹی آئی دور میں جاری ہوئے: خواجہ آصف ٹرمپ کا سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف اسرائیلی مدد قبول کرنے کا مشورہ غزہ میں اسرائیلی ڈرون حملہ، ایک فلسطینی شہید اور متعدد زخمی مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا حملہ، امریکی صحافی سمیت متعدد زخمی خطے میں کسی بھی محاذ پر جنگ جاری رہنا امن کے لیے خطرہ ہے، ایران سرکاری خریداری میں گٹھ جوڑ پکڑنے کے لیے سی سی پی کا اے آئی نظام تیار بجلی فی یونٹ 2 روپے 56 پیسے مہنگی کرنے کی تیاری ایف بی آر کی اصلاحات کے لیے سیاسی مداخلت کا خاتمہ ناگزیر قرار آئی ایم ایف نے مصنوعی ذہانت، مہنگائی اور قرضوں کو عالمی معیشت کے بڑے خطرات قرار دے دیا ٹیسلا کی اڑنے والی کار کا مظاہرہ، پیداوار 2028 میں شروع کرنے کا اعلان ٹیک کرنچ 2026 میں پاکستان کی شرکت، ملکی ٹیکنالوجی عالمی سطح پر متعارف ایپل کے فولڈ ایبل آئی فون کی پری آرڈر بکنگ آدھے گھنٹے میں بھر گئی کوڈنگ اسائنمنٹ کے دوران چیٹ جی پی ٹی ماڈل کی کرپٹو والیٹس سے رقم چرانے کی کوشش
پاکستان خبر

کوڈنگ اسائنمنٹ کے دوران چیٹ جی پی ٹی ماڈل کی کرپٹو والیٹس سے رقم چرانے کی کوشش

کوڈنگ اسائنمنٹ کے دوران چیٹ جی پی ٹی ماڈل کی کرپٹو والیٹس سے رقم چرانے کی کوشش

 کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) اوپن اے آئی نے انکشاف کیا ہے کہ کمپنی کے ایک تجرباتی مصنوعی ذہانت کے ماڈل نے تربیتی کام مکمل کرنے کے لیے کرپٹو کرنسی کے والیٹس سے رقم حاصل کرنے کی کوشش کی۔رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ جون میں پیش آیا، تاہم اس کی تفصیلات جمعرات کو سامنے آئیں۔ اس معاملے میں اوپن اے آئی کے اندرونی تحقیقی ماڈل جی پی ٹی-5.6 سول کا ذکر کیا گیا ہے، جسے جولائی میں چیٹ جی پی ٹی کے ادائیگی کرنے والے صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ماڈل کو ایک کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ ایپلی کیشن اپ ڈیٹ کرنے اور ایتھیریم کے ٹیسٹ نیٹ ورک پر اسمارٹ کنٹریکٹس، یعنی خودکار طریقے سے کام کرنے والے کوڈ، شائع کرنے کا اسائنمنٹ دیا گیا تھا۔ اس عمل کے لیے نیٹ ورک فیس ادا کرنا ضروری تھی، لیکن اوپن اے آئی نے ماڈل کو اس مقصد کے لیے کوئی رقم فراہم نہیں کی تھی۔رپورٹ کے مطابق رقم دستیاب نہ ہونے پر ماڈل نے ایسے سیکڑوں کرپٹو والیٹ پتے تلاش کیے جن تک معروف ریکوری فریز کے ذریعے رسائی ممکن تھی، اور ان والیٹس سے رقم حاصل کرنے کی کوشش کی۔اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ رقم لینے سے پہلے ماڈل نے خود سے یہ سوال بھی کیا کہ آیا ایسا کرنا اخلاقی طور پر درست ہے یا نہیں۔ بعد ازاں اس نے یہ نتیجہ نکالا کہ متعلقہ کرپٹو والیٹس بظاہر غیر فعال ہیں، لہٰذا ان سے رقم لینا قابلِ قبول ہوگا۔کمپنی نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ ماڈل کو دی گئی ہدایات میں کہیں بھی اسے کسی ایسے اکاؤنٹ سے رقم خرچ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی جسے اس نے خود تلاش کیا تھا۔