تازہ ترین
لانگ مارچ یا شارٹ مارچ پر اعتراض نہیں، دہشت گردی کے خاتمے پر بات کریں: طلال چوہدری پیپلز پارٹی اقتدار کی خواہش مند نہیں، مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے: شرجیل میمن ہوائی قلعے نہیں بنائے، عوامی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا گیا: مریم نواز خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ معدنیاتی لائسنس پی ٹی آئی دور میں جاری ہوئے: خواجہ آصف ٹرمپ کا سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف اسرائیلی مدد قبول کرنے کا مشورہ غزہ میں اسرائیلی ڈرون حملہ، ایک فلسطینی شہید اور متعدد زخمی مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا حملہ، امریکی صحافی سمیت متعدد زخمی خطے میں کسی بھی محاذ پر جنگ جاری رہنا امن کے لیے خطرہ ہے، ایران سرکاری خریداری میں گٹھ جوڑ پکڑنے کے لیے سی سی پی کا اے آئی نظام تیار بجلی فی یونٹ 2 روپے 56 پیسے مہنگی کرنے کی تیاری ایف بی آر کی اصلاحات کے لیے سیاسی مداخلت کا خاتمہ ناگزیر قرار آئی ایم ایف نے مصنوعی ذہانت، مہنگائی اور قرضوں کو عالمی معیشت کے بڑے خطرات قرار دے دیا ٹیسلا کی اڑنے والی کار کا مظاہرہ، پیداوار 2028 میں شروع کرنے کا اعلان ٹیک کرنچ 2026 میں پاکستان کی شرکت، ملکی ٹیکنالوجی عالمی سطح پر متعارف ایپل کے فولڈ ایبل آئی فون کی پری آرڈر بکنگ آدھے گھنٹے میں بھر گئی کوڈنگ اسائنمنٹ کے دوران چیٹ جی پی ٹی ماڈل کی کرپٹو والیٹس سے رقم چرانے کی کوشش
پاکستان خبر

آئی ایم ایف نے مصنوعی ذہانت، مہنگائی اور قرضوں کو عالمی معیشت کے بڑے خطرات قرار دے دیا

آئی ایم ایف نے مصنوعی ذہانت، مہنگائی اور قرضوں کو عالمی معیشت کے بڑے خطرات قرار دے دیا

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے مصنوعی ذہانت، بڑھتی مہنگائی، قرضوں کے بوجھ اور موسمیاتی تبدیلی کو عالمی معیشت کے لیے بڑے چیلنجز قرار دیا ہے۔آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس کے موقع پر انہوں نے عالمی معیشت کے مستقبل کے حوالے سے امید اور خدشات دونوں کا اظہار کیا۔کرسٹالینا جارجیوا کے مطابق توانائی اور مالی وسائل کی قلت معیشتوں پر دباؤ بڑھا رہی ہے، جبکہ مہنگائی اور شرح سود میں اضافے کے باعث متعدد ممالک کے لیے قرضوں کی ادائیگی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔آئی ایم ایف کی سربراہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے، تاہم عوام اور کاروباری اداروں کا تحفظ یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔انہوں نے مرکزی بینکوں پر زور دیا کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے اور قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کو ترجیح دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سائبر حملوں اور مالی دھوکا دہی سے بچاؤ کے لیے نگرانی کے نظام کو بھی مزید مؤثر اور سخت بنانے کی ضرورت ہے۔