تازہ ترین
لانگ مارچ یا شارٹ مارچ پر اعتراض نہیں، دہشت گردی کے خاتمے پر بات کریں: طلال چوہدری پیپلز پارٹی اقتدار کی خواہش مند نہیں، مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے: شرجیل میمن ہوائی قلعے نہیں بنائے، عوامی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا گیا: مریم نواز خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ معدنیاتی لائسنس پی ٹی آئی دور میں جاری ہوئے: خواجہ آصف ٹرمپ کا سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف اسرائیلی مدد قبول کرنے کا مشورہ غزہ میں اسرائیلی ڈرون حملہ، ایک فلسطینی شہید اور متعدد زخمی مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا حملہ، امریکی صحافی سمیت متعدد زخمی خطے میں کسی بھی محاذ پر جنگ جاری رہنا امن کے لیے خطرہ ہے، ایران سرکاری خریداری میں گٹھ جوڑ پکڑنے کے لیے سی سی پی کا اے آئی نظام تیار بجلی فی یونٹ 2 روپے 56 پیسے مہنگی کرنے کی تیاری ایف بی آر کی اصلاحات کے لیے سیاسی مداخلت کا خاتمہ ناگزیر قرار آئی ایم ایف نے مصنوعی ذہانت، مہنگائی اور قرضوں کو عالمی معیشت کے بڑے خطرات قرار دے دیا ٹیسلا کی اڑنے والی کار کا مظاہرہ، پیداوار 2028 میں شروع کرنے کا اعلان ٹیک کرنچ 2026 میں پاکستان کی شرکت، ملکی ٹیکنالوجی عالمی سطح پر متعارف ایپل کے فولڈ ایبل آئی فون کی پری آرڈر بکنگ آدھے گھنٹے میں بھر گئی کوڈنگ اسائنمنٹ کے دوران چیٹ جی پی ٹی ماڈل کی کرپٹو والیٹس سے رقم چرانے کی کوشش
پاکستان خبر

ٹرمپ کا سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف اسرائیلی مدد قبول کرنے کا مشورہ

ٹرمپ کا سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف اسرائیلی مدد قبول کرنے کا مشورہ

واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو مشورہ دیا ہے کہ وہ یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں مدد دینے کی اسرائیل کی پیشکش قبول کرلے۔وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب کو اسرائیل کی پیشکش قبول کرنی چاہیے، کیونکہ اسرائیل سعودی عرب کے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ہے۔رواں ہفتے ایک سفارتی ذریعے نے اسرائیلی اخبار کو بتایا تھا کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی ثالثی کے ذریعے سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف مدد کی پیشکش کی تھی۔ اس اقدام کا ایک مقصد دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط بنانا بھی تھا۔ تاہم سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس تجویز کی مخالفت کی، کیونکہ انہیں سعودی عوام کی جانب سے ممکنہ ردعمل کا خدشہ تھا۔دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے امریکا کو اس کے جوہری پروگرام سے منسلک زیرِ زمین مقام ’’پک ایکس ماؤنٹین‘‘ کو نشانہ بنانا پڑ سکتا ہے۔جمعرات کی رات ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا جوہری ہتھیار استعمال نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے، کیونکہ ان کے بقول ایران ایسا کرنے کی صورت میں انہیں استعمال کرے گا۔ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیبات کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی جوہری صلاحیت ایک بہت بڑے پہاڑ کے نیچے موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اس مقام کا جائزہ لے رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے نشانہ بنا کر تیزی سے تباہ کرسکتا ہے۔