تازہ ترین
لانگ مارچ یا شارٹ مارچ پر اعتراض نہیں، دہشت گردی کے خاتمے پر بات کریں: طلال چوہدری پیپلز پارٹی اقتدار کی خواہش مند نہیں، مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے: شرجیل میمن ہوائی قلعے نہیں بنائے، عوامی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا گیا: مریم نواز خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ معدنیاتی لائسنس پی ٹی آئی دور میں جاری ہوئے: خواجہ آصف ٹرمپ کا سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف اسرائیلی مدد قبول کرنے کا مشورہ غزہ میں اسرائیلی ڈرون حملہ، ایک فلسطینی شہید اور متعدد زخمی مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا حملہ، امریکی صحافی سمیت متعدد زخمی خطے میں کسی بھی محاذ پر جنگ جاری رہنا امن کے لیے خطرہ ہے، ایران سرکاری خریداری میں گٹھ جوڑ پکڑنے کے لیے سی سی پی کا اے آئی نظام تیار بجلی فی یونٹ 2 روپے 56 پیسے مہنگی کرنے کی تیاری ایف بی آر کی اصلاحات کے لیے سیاسی مداخلت کا خاتمہ ناگزیر قرار آئی ایم ایف نے مصنوعی ذہانت، مہنگائی اور قرضوں کو عالمی معیشت کے بڑے خطرات قرار دے دیا ٹیسلا کی اڑنے والی کار کا مظاہرہ، پیداوار 2028 میں شروع کرنے کا اعلان ٹیک کرنچ 2026 میں پاکستان کی شرکت، ملکی ٹیکنالوجی عالمی سطح پر متعارف ایپل کے فولڈ ایبل آئی فون کی پری آرڈر بکنگ آدھے گھنٹے میں بھر گئی کوڈنگ اسائنمنٹ کے دوران چیٹ جی پی ٹی ماڈل کی کرپٹو والیٹس سے رقم چرانے کی کوشش
پاکستان خبر

خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ معدنیاتی لائسنس پی ٹی آئی دور میں جاری ہوئے: خواجہ آصف

خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ معدنیاتی لائسنس پی ٹی آئی دور میں جاری ہوئے: خواجہ آصف

اسلام آباد (پاکستان خبر) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں معدنیات کے سب سے زیادہ لائسنس پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی ادوارِ حکومت میں جاری کیے گئے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے بتایا کہ قیام پاکستان سے 2010ء تک صوبے میں معدنیات کے صرف 482 لائسنس اور ٹائٹلز جاری کیے گئے تھے۔ان کے مطابق پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں کے دوران ان لائسنسوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ 2020ء تک یہ تعداد 1,762، فروری 2024ء تک 3,962 جبکہ موجودہ وقت میں مجموعی طور پر 4,917 ہوچکی ہے۔ ان میں 4,133 لائسنس آباد اضلاع اور 784 ضم شدہ اضلاع میں جاری کیے گئے ہیں۔وزیر دفاع نے واضح کیا کہ اس پورے عرصے میں عسکری ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو صرف ایک معدنیاتی لائسنس دیا گیا، جو 2015ء میں شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں جاری ہوا تھا۔ ان کے مطابق ایف ڈبلیو او وہاں تعمیراتی اور بحالی کے کاموں میں مصروف رہا۔خواجہ آصف نے مزید بتایا کہ معدنیات کے 500 سے زائد نئے لائسنسوں کی درخواستیں زیر غور ہیں، جن میں سے کوئی بھی عسکری ادارے کی جانب سے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ معدنیاتی لائسنسوں کی بڑی تعداد پی ٹی آئی کے دور میں جاری ہوئی، جبکہ اس شعبے میں عسکری اداروں کا براہِ راست کردار نہیں رہا۔