تازہ ترین
لانگ مارچ یا شارٹ مارچ پر اعتراض نہیں، دہشت گردی کے خاتمے پر بات کریں: طلال چوہدری پیپلز پارٹی اقتدار کی خواہش مند نہیں، مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے: شرجیل میمن ہوائی قلعے نہیں بنائے، عوامی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا گیا: مریم نواز خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ معدنیاتی لائسنس پی ٹی آئی دور میں جاری ہوئے: خواجہ آصف ٹرمپ کا سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف اسرائیلی مدد قبول کرنے کا مشورہ غزہ میں اسرائیلی ڈرون حملہ، ایک فلسطینی شہید اور متعدد زخمی مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا حملہ، امریکی صحافی سمیت متعدد زخمی خطے میں کسی بھی محاذ پر جنگ جاری رہنا امن کے لیے خطرہ ہے، ایران سرکاری خریداری میں گٹھ جوڑ پکڑنے کے لیے سی سی پی کا اے آئی نظام تیار بجلی فی یونٹ 2 روپے 56 پیسے مہنگی کرنے کی تیاری ایف بی آر کی اصلاحات کے لیے سیاسی مداخلت کا خاتمہ ناگزیر قرار آئی ایم ایف نے مصنوعی ذہانت، مہنگائی اور قرضوں کو عالمی معیشت کے بڑے خطرات قرار دے دیا ٹیسلا کی اڑنے والی کار کا مظاہرہ، پیداوار 2028 میں شروع کرنے کا اعلان ٹیک کرنچ 2026 میں پاکستان کی شرکت، ملکی ٹیکنالوجی عالمی سطح پر متعارف ایپل کے فولڈ ایبل آئی فون کی پری آرڈر بکنگ آدھے گھنٹے میں بھر گئی کوڈنگ اسائنمنٹ کے دوران چیٹ جی پی ٹی ماڈل کی کرپٹو والیٹس سے رقم چرانے کی کوشش
پاکستان خبر

خطے میں کسی بھی محاذ پر جنگ جاری رہنا امن کے لیے خطرہ ہے، ایران

خطے میں کسی بھی محاذ پر جنگ جاری رہنا امن کے لیے خطرہ ہے، ایران

تہران ( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے تمام محاذوں پر لڑائی کا خاتمہ ضروری ہے، کیونکہ کسی ایک محاذ پر بھی جنگ جاری رہنے کا مطلب ہے کہ پورا خطہ بدستور جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق المیادین ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سعید خطیب زادہ نے کہا کہ ایران لبنان پر اسرائیلی حملے رکوانے کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ ایران اور امریکا کے درمیان جون میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں بھی شامل تھا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران اور لبنان پر حملے کرکے اسلام آباد مفاہمت کی خلاف ورزی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گا۔ایرانی نائب وزیر خارجہ نے امریکا کی ایران کے خلاف جنگ کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولنے کی تجویز بھی پیش کی تھی۔