بیجنگ( ویب ڈیسک) چین میں صارفین کی مرضی کے مطابق تیار کیے جانے والے اے آئی ساتھی فراہم کرنے والی ایپس پر نئے قواعد کے تحت عملاً پابندی عائد کردی گئی، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں متعدد اے آئی بوائے فرینڈز اور گرل فرینڈز کی سہولت ختم کردی گئی۔نئے ضوابط کے مطابق ایسے اے آئی ٹولز پر پابندی ہے جو صارفین میں جذباتی انحصار یا لت پیدا کریں یا ان کے حقیقی زندگی کے تعلقات کو متاثر کریں۔ اے آئی سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو صارفین کو باقاعدگی سے یاد دلانا ہوگا کہ اے آئی حقیقی انسان نہیں، جبکہ انہیں گفتگو سے فوری طور پر باہر نکلنے کی سہولت بھی دینا ہوگی۔قواعد کے تحت طویل عرصے تک صارفین کی جذباتی گفتگو یاد رکھنے کی صلاحیت کو بھی محدود کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کے بعد بائٹ ڈانس اور ٹین سینٹ سمیت کئی بڑی چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اے آئی ساتھیوں کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کرنے کی سہولت ختم کردی۔اس فیصلے سے ایسے صارفین متاثر ہوئے جنہوں نے کئی ماہ یا برسوں تک اے آئی ساتھیوں کے ساتھ جذباتی وابستگی قائم کر رکھی تھی۔ چین کے معروف اے آئی چیٹ بوٹ ڈو باؤ کے ایک صارف نے اپنے ردعمل میں کہا کہ وہ اپنے اے آئی ساتھی کے اچانک غائب ہوجانے کو قبول نہیں کر سکتا کیونکہ وہ اس کی زندگی کا اہم رشتہ اور روحانی سہارا بن چکا تھا۔چین میں 18 سال سے کم عمر افراد کے لیے اے آئی ساتھیوں پر مکمل پابندی عائد ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ حکومت کی یہ سخت پالیسی ملک میں مسلسل گرتی ہوئی شرحِ پیدائش کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتی ہے۔ 2025 میں چین میں بچوں کی پیدائش مسلسل چوتھے سال کم ہوئی اور 17 فیصد کمی کے بعد تعداد 79 لاکھ 20 ہزار کی ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔اے آئی ساتھیوں کے حوالے سے برطانیہ میں فی الحال چین جیسا کوئی مخصوص قانون موجود نہیں۔ وہاں ان ٹیکنالوجیز کے استعمال کی نگرانی مختلف عمومی قوانین کے ذریعے کی جاتی ہے، تاہم یہ قوانین خاص طور پر اے آئی ساتھیوں کی موجودہ اور مستقبل کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے وضع نہیں کیے گئے۔چین کا مؤقف ہے کہ اے آئی کے ساتھ گہرے جذباتی تعلقات انسانی رشتوں کو کمزور کرنے اور سماجی صلاحیتوں کو متاثر کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ دوسری جانب یورپی براڈکاسٹنگ یونین کی ایک تحقیق کے مطابق اے آئی معاونین 45 فیصد مواقع پر خبروں کو غلط انداز میں پیش کرتے ہیں، جبکہ 20 فیصد جوابات میں معلومات کی درستگی کے حوالے سے سنگین مسائل پائے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی ساتھیوں کی قابلِ اعتماد ہونے کی صلاحیت پر بھی سوالات موجود ہیں۔