تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

ایران پر امریکی حملوں پر چین کی شدید تنقید

ایران پر امریکی حملوں پر چین کی شدید تنقید

نیویارک( مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے سن لی نے ایران پر امریکی حملوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی فوجی کارروائیوں نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کو خطرناک صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔چینی سفیر نے اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف امریکی حملے خطے میں کشیدگی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں، جو عالمی امن اور استحکام کے لیے بھی تشویش کا باعث ہیں۔سن لی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی نمائندے مائیک والٹز نے الزام عائد کیا کہ چین ایران اور یمن کو سامان کی فراہمی روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہا۔چینی سفیر نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چین اپنی برآمدات کی سخت نگرانی کرتا ہے اور متعلقہ قوانین پر مکمل عمل درآمد یقینی بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں مزید تنازعات پیدا کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔چینی نمائندے کے مطابق خطے میں دیرپا امن کے لیے فوجی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات، سفارتی کوششوں اور عالمی قوانین کا احترام ضروری ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران پر امریکی حملوں کے بعد عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی اختلافات مزید واضح ہوگئے ہیں۔ چین مذاکرات اور سیاسی حل پر زور دے رہا ہے، جبکہ امریکا ایران کے خلاف دباؤ کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔