تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

ایران پر امریکی حملوں پر چین کی شدید تنقید

ایران پر امریکی حملوں پر چین کی شدید تنقید

نیویارک( مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے سن لی نے ایران پر امریکی حملوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی فوجی کارروائیوں نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کو خطرناک صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔چینی سفیر نے اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف امریکی حملے خطے میں کشیدگی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں، جو عالمی امن اور استحکام کے لیے بھی تشویش کا باعث ہیں۔سن لی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی نمائندے مائیک والٹز نے الزام عائد کیا کہ چین ایران اور یمن کو سامان کی فراہمی روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہا۔چینی سفیر نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چین اپنی برآمدات کی سخت نگرانی کرتا ہے اور متعلقہ قوانین پر مکمل عمل درآمد یقینی بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں مزید تنازعات پیدا کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔چینی نمائندے کے مطابق خطے میں دیرپا امن کے لیے فوجی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات، سفارتی کوششوں اور عالمی قوانین کا احترام ضروری ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران پر امریکی حملوں کے بعد عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی اختلافات مزید واضح ہوگئے ہیں۔ چین مذاکرات اور سیاسی حل پر زور دے رہا ہے، جبکہ امریکا ایران کے خلاف دباؤ کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔