نیویارک( مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے سن لی نے ایران پر امریکی حملوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی فوجی کارروائیوں نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کو خطرناک صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔چینی سفیر نے اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف امریکی حملے خطے میں کشیدگی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں، جو عالمی امن اور استحکام کے لیے بھی تشویش کا باعث ہیں۔سن لی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی نمائندے مائیک والٹز نے الزام عائد کیا کہ چین ایران اور یمن کو سامان کی فراہمی روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہا۔چینی سفیر نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چین اپنی برآمدات کی سخت نگرانی کرتا ہے اور متعلقہ قوانین پر مکمل عمل درآمد یقینی بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں مزید تنازعات پیدا کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔چینی نمائندے کے مطابق خطے میں دیرپا امن کے لیے فوجی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات، سفارتی کوششوں اور عالمی قوانین کا احترام ضروری ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران پر امریکی حملوں کے بعد عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی اختلافات مزید واضح ہوگئے ہیں۔ چین مذاکرات اور سیاسی حل پر زور دے رہا ہے، جبکہ امریکا ایران کے خلاف دباؤ کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔