نئی دہلی( مانیٹرنک ڈیسک) بھارت میں امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف سوشل میڈیا سے شروع ہونے والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک میں تیزی آ گئی ہے، جس کے باعث حکومتی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔رپورٹس کے مطابق انسانی حقوق کے کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کے دوران جبری طور پر ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد احتجاج میں شدت آئی۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے سونم وانگچک سے اظہار یکجہتی کے لیے خود بھوک ہڑتال شروع کی، تاہم اس دوران ان پر سیاہی پھینکنے کا واقعہ بھی پیش آیا۔سونم وانگچک کی اہلیہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سونم وانگچک کی طبی رپورٹس فراہم نہیں کی جا رہیں اور وہ علاج کے معاملے میں حکومت اور سرکاری ہسپتال پر اعتماد نہیں کرتیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق سونم وانگچک کی جبری ہسپتال منتقلی کے معاملے پر اختلافات کا شکار اپوزیشن جماعتیں بھی متحد ہو کر حکومت پر تنقید کر رہی ہیں۔برطانوی تجزیہ کار ہنّا ایلس پیٹرسن کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کا آغاز اگرچہ ایک آن لائن مذاق کے طور پر ہوا تھا، تاہم اب یہ بھارت کی حکمران جماعت کے لیے ایک سیاسی چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس تحریک کی بڑھتی سرگرمیاں اور اپوزیشن کا مشترکہ ردعمل ملک میں سیاسی مزاحمت کے بڑھتے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔