تازہ ترین
وزیراعظم کی عازمین حج کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت سمر انٹرن شپ؛ ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلبہ سے خصوصی نشست بھارتی آپریشن سندور کی ڈاکومینٹری حقائق کے منافی ہے: آئی ایس پی آر بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 9 دہشتگرد ہلاک طالبان حکومت کیخلاف 24 شہروں میں احتجاج، خواتین کے حقوق کا مطالبہ امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ کا تہران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ میلانیا ٹرمپ کی محدود عوامی سرگرمیاں، نئی بحث چھڑ گئی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بدستور شدید متاثر امریکی تیل کے اسٹریٹجک ذخائر 44 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے پی ٹی وی کیلئے 13 ارب روپے کی اضافی گرانٹ منظور اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، 100 انڈیکس 1 لاکھ 80 ہزار 602 پوائنٹس پر پہنچ گیا سندھ میں گیس کا اہم ذخیرہ دریافت، نئی ایکسپلوریشن راہ کھل گئی بجلی صارفین پر 41 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان انگلینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے 4 فاسٹ بولرز کھلانے پر غور انگلینڈ کیخلاف پہلا ٹیسٹ، بابر اعظم کی شرکت میڈیکل کلیئرنس سے مشروط رونالڈو اور جارجینا کی گھر میں سادہ شادی، بڑی تقریب بعد میں ہوگی
پاکستان خبر

مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید بلاجواز ہے، عطاء الرحمان

مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید بلاجواز ہے، عطاء الرحمان

 پشاور( پاکستان خبر)جے یو آئی خیبر پختونخوا کے امیر مولانا عطاء الرحمان نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ایک نامکمل جملے کو بنیاد بنا کر غیر ضروری تنازع کھڑا کیا گیا، اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ پوری تقریر سنیں۔پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا عطاء الرحمان کا کہنا تھا کہ قصور میں جے یو آئی کی کامیاب کانفرنس مخالفین کو برداشت نہیں ہوئی، اسی لیے 13 جولائی کو مولانا فضل الرحمان کے ادھورے جملے پر تنقید کا سلسلہ شروع کر دیا گیا اور ان سے معافی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ان کی سیاسی مقبولیت کو متاثر کرنا ہے۔ ان کے مطابق بعض عناصر مولانا فضل الرحمان کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم وہ مخالفین کے دلوں پر اثر رکھتے ہیں۔مولانا عطاء الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی نے ملک کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں، باجوڑ جلسے میں جے یو آئی کے 80 کارکن جاں بحق ہوئے، علماء کو نشانہ بنایا گیا لیکن جماعت ہمیشہ ریاست کے ساتھ کھڑی رہی۔ انہوں نے کہا کہ ایک جملے کی بنیاد پر جے یو آئی کی قربانیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پورے جلسے کے بجائے صرف دو الفاظ کو موضوع بحث بنایا جا رہا ہے۔ جے یو آئی نے ماضی میں ملک کے اہم معاملات میں اپنا کردار ادا کیا، بھارت کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت کی اور مولانا فضل الرحمان نے علماء کو متحد کرکے دہشت گردی کے خلاف فتویٰ جاری کروایا۔مولانا عطاء الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر جے یو آئی کا راستہ روکا گیا تو اسے ملک کی ترقی میں رکاوٹ سمجھا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آئندہ انتخابات میں جے یو آئی کی ممکنہ کامیابی سے خوفزدہ عناصر بیرونی اشاروں پر جماعت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔