پشاور( پاکستان خبر)جے یو آئی خیبر پختونخوا کے امیر مولانا عطاء الرحمان نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ایک نامکمل جملے کو بنیاد بنا کر غیر ضروری تنازع کھڑا کیا گیا، اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ پوری تقریر سنیں۔پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا عطاء الرحمان کا کہنا تھا کہ قصور میں جے یو آئی کی کامیاب کانفرنس مخالفین کو برداشت نہیں ہوئی، اسی لیے 13 جولائی کو مولانا فضل الرحمان کے ادھورے جملے پر تنقید کا سلسلہ شروع کر دیا گیا اور ان سے معافی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ان کی سیاسی مقبولیت کو متاثر کرنا ہے۔ ان کے مطابق بعض عناصر مولانا فضل الرحمان کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم وہ مخالفین کے دلوں پر اثر رکھتے ہیں۔مولانا عطاء الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی نے ملک کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں، باجوڑ جلسے میں جے یو آئی کے 80 کارکن جاں بحق ہوئے، علماء کو نشانہ بنایا گیا لیکن جماعت ہمیشہ ریاست کے ساتھ کھڑی رہی۔ انہوں نے کہا کہ ایک جملے کی بنیاد پر جے یو آئی کی قربانیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پورے جلسے کے بجائے صرف دو الفاظ کو موضوع بحث بنایا جا رہا ہے۔ جے یو آئی نے ماضی میں ملک کے اہم معاملات میں اپنا کردار ادا کیا، بھارت کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت کی اور مولانا فضل الرحمان نے علماء کو متحد کرکے دہشت گردی کے خلاف فتویٰ جاری کروایا۔مولانا عطاء الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر جے یو آئی کا راستہ روکا گیا تو اسے ملک کی ترقی میں رکاوٹ سمجھا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آئندہ انتخابات میں جے یو آئی کی ممکنہ کامیابی سے خوفزدہ عناصر بیرونی اشاروں پر جماعت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔