تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

ناکارہ اسپیس ایکس راکٹ چاند سے ٹکرانے کو تیار

ناکارہ اسپیس ایکس راکٹ چاند سے ٹکرانے کو تیار

واشنگٹن( ویب ڈیسک)اسپیس ایکس کا ایک ناکارہ راکٹ بدھ کے روز چاند سے ٹکرانے والا ہے، جس کے نتیجے میں تین ٹن سے زائد ٹی این ٹی کے دھماکے جتنی طاقت کا اثر پیدا ہونے کی توقع ہے۔ماہرین کے مطابق اس تصادم سے چاند کی سطح پر ایک نیا گڑھا بنے گا، جبکہ گرد و غبار اور چٹانوں کا ایک بڑا بادل کئی میل بلند خلا میں پھیل جائے گا۔ اس منفرد منظر کے مشاہدے کے لیے سائنس دان اور فلکیات کے ماہرین بے چینی سے منتظر ہیں۔یہ راکٹ ایک سال سے زائد عرصے سے خلا میں گردش کر رہا ہے اور اس سے قبل دو قمری لینڈرز کو خلا میں بھیجنے کے لیے استعمال کیا جا چکا ہے۔خلائی نگرانی کے ماہر بل گرے کے مطابق راکٹ کا بالائی حصہ تقریباً 8 ہزار 700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کے آئن اسٹائن کریٹر کے قریب جا ٹکرائے گا، جو آواز کی رفتار سے تقریباً سات گنا زیادہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس واقعے سے فوری طور پر کوئی خطرہ لاحق نہیں، تاہم یہ زمین کے مدار اور اس سے باہر بڑھتے ہوئے خلائی ملبے کے مسئلے کو نمایاں کرتا ہے، جو مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔