تازہ ترین
آزاد کشمیر انتخابات: 30 ہزار سرکاری ملازمین نے ووٹ ڈال دیے خیبرپختونخوا میں تعلیمی منصوبوں کی تاخیر، لاگت میں کروڑوں کا اضافہ مون سون تباہی، مختلف علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نقصانات عمران خان سے ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب، سپریم کورٹ کا جیل انتظامیہ کو حکم اگر ایران اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لاتا ہے تو سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے: امریکہ بھارت امریکا تعلقات میں سرد مہری، مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک زور پکڑنے لگی بھارت میں ’کاکروچ تحریک‘ کا احتجاج جاری، پارلیمان مارچ کی تیاری پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا درآمدی بل 16.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا پاکستانی فری لانسرز نے 1.76 ارب ڈالر کما کر نیا ریکارڈ قائم کردیا اسپین اضافی وقت میں ارجنٹینا کو ہرا کر دوسری بار عالمی چیمپئن بن گیا لامین یمال کا ننھے بھائی کے ساتھ جشن سوشل میڈیا پر وائرل لامین یمال اور ٹرمپ کا مصافحہ سوشل میڈیا پر وائرل ورلڈ کپ جیتنے پر اسپین کو 5 کروڑ ڈالر کا انعام
پاکستان خبر

خیبرپختونخوا میں تعلیمی منصوبوں کی تاخیر، لاگت میں کروڑوں کا اضافہ

خیبرپختونخوا میں تعلیمی منصوبوں کی تاخیر، لاگت میں کروڑوں کا اضافہ

پشاور( پاکستان خبر) خیبرپختونخوا محکمہ تعلیم کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل نہ ہونے کے باعث ان کی لاگت میں کروڑوں روپے اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق منصوبوں میں تاخیر سے تعمیراتی اخراجات بڑھ گئے، جس کے بعد محکمہ تعلیم نے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور فنڈز کے مؤثر استعمال کے لیے نئی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔دستاویزات کے مطابق محکمہ تعلیم نے منصوبوں کی نگرانی، فنڈز کے اجرا اور کارکردگی جانچنے کے لیے 6 رکنی ترقیاتی فنڈز اجرا کمیٹی قائم کردی ہے۔ کمیٹی میں ایڈیشنل سیکرٹری، ڈپٹی سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ افسران شامل ہوں گے۔کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ کسی منصوبے کے لیے کتنے فنڈز مختص کیے گئے، اب تک کتنی رقم خرچ ہوئی اور عملی طور پر کتنا کام مکمل کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق رپورٹ منصوبہ بندی افسر کو فراہم کی جائے گی۔دستاویزات کے مطابق کمیٹی کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ جاری منصوبوں کے لیے درکار فنڈز، واجبات اور مختص رقم کے مقابلے میں ہونے والے اخراجات کا جائزہ لے کر رپورٹ تیار کرے۔کمیٹی یہ بھی سفارش کرے گی کہ زیر تعمیر منصوبوں کے لیے کن بنیادوں پر فنڈز جاری کیے جائیں تاکہ ترقیاتی کام بروقت مکمل ہوسکیں اور سرکاری وسائل کا بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔