تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

خیبرپختونخوا میں تعلیمی منصوبوں کی تاخیر، لاگت میں کروڑوں کا اضافہ

خیبرپختونخوا میں تعلیمی منصوبوں کی تاخیر، لاگت میں کروڑوں کا اضافہ

پشاور( پاکستان خبر) خیبرپختونخوا محکمہ تعلیم کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل نہ ہونے کے باعث ان کی لاگت میں کروڑوں روپے اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق منصوبوں میں تاخیر سے تعمیراتی اخراجات بڑھ گئے، جس کے بعد محکمہ تعلیم نے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور فنڈز کے مؤثر استعمال کے لیے نئی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔دستاویزات کے مطابق محکمہ تعلیم نے منصوبوں کی نگرانی، فنڈز کے اجرا اور کارکردگی جانچنے کے لیے 6 رکنی ترقیاتی فنڈز اجرا کمیٹی قائم کردی ہے۔ کمیٹی میں ایڈیشنل سیکرٹری، ڈپٹی سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ افسران شامل ہوں گے۔کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ کسی منصوبے کے لیے کتنے فنڈز مختص کیے گئے، اب تک کتنی رقم خرچ ہوئی اور عملی طور پر کتنا کام مکمل کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق رپورٹ منصوبہ بندی افسر کو فراہم کی جائے گی۔دستاویزات کے مطابق کمیٹی کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ جاری منصوبوں کے لیے درکار فنڈز، واجبات اور مختص رقم کے مقابلے میں ہونے والے اخراجات کا جائزہ لے کر رپورٹ تیار کرے۔کمیٹی یہ بھی سفارش کرے گی کہ زیر تعمیر منصوبوں کے لیے کن بنیادوں پر فنڈز جاری کیے جائیں تاکہ ترقیاتی کام بروقت مکمل ہوسکیں اور سرکاری وسائل کا بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔