دبئی( ویب ڈیسک) بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کے لیے دبئی ایئرپورٹ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید نظام متعارف کرا دیا ہے، جس کے ذریعے امیگریشن کا مرحلہ پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور آسان ہو گیا ہے۔نئے نظام کے تحت مسافروں کو بارڈر کنٹرول کے دوران روایتی انداز میں پاسپورٹ، شناختی دستاویزات یا ٹکٹ دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ جدید بائیومیٹرک ٹیکنالوجی کے ذریعے چند سیکنڈز میں ان کی شناخت مکمل کر لی جائے گی۔رپورٹس کے مطابق اس جدید سہولت کا آغاز ستمبر 2025 میں پرواز میں سوار ہونے والے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم اب اسے دبئی ایئرپورٹ پہنچنے والے مسافروں کے لیے بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔یہ نظام مصنوعی ذہانت، جدید بائیومیٹرک کیمروں اور فلائٹ ڈیٹا کی مدد سے مسافروں اور ان کے سامان کی تصدیق کا عمل خودکار طریقے سے مکمل کرتا ہے۔نئے سسٹم کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ بیک وقت 10 مسافر بارڈر کنٹرول سے گزر سکیں گے، جبکہ شناخت اور کلیئرنس کا پورا عمل صرف 3.4 سیکنڈ میں مکمل ہو جائے گا۔دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل تھری میں اس سہولت کے ذریعے مسافروں کو مخصوص راستے سے گزرنا ہوگا، جہاں انہیں نہ تو دستاویزات پیش کرنے کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی طویل قطاروں میں انتظار کرنا پڑے گا۔مسافروں کو صرف دبئی پہنچنے سے قبل اپنی پاسپورٹ معلومات اور تصویر کا اندراج مکمل کرنا ہوگا، جس کے بعد جدید ٹیکنالوجی ان کی شناخت کا عمل انجام دے گی۔دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھ کے مطابق ایئرپورٹ انتظامیہ نے جدید کیمرا ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی ہے تاکہ مسافروں کو آمد اور روانگی کے مراحل میں زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ اس ٹیکنالوجی کی آزمائش ابتدائی طور پر فرسٹ کلاس مسافروں کے لیے کی جا رہی ہے، جبکہ کامیاب نتائج کے بعد اسے مرحلہ وار تمام مسافروں کے لیے دستیاب کر دیا جائے گا۔