تازہ ترین
خیبرپختونخوا حکومت کا سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس واپسی کا اعلان مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید بلاجواز ہے، عطاء الرحمان زیارت شہداء معاملہ: بلوچستان حکومت اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ طے خیبر پختونخوا میں گلیشیئر جھیل پھٹنے کا الرٹ جاری ناروے میں خوفناک آتشزدگی، 100 سے زائد گھر تباہ امریکا نے طلبا کے ویزوں میں توسیع کے قواعد سخت کر دیے سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل 120 سائنسدانوں کے استعفوں پر بھارتی خلائی ادارے میں نئی پابندیاں گزشتہ مالی سال پاکستان نے 16.2 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرض حاصل کیے پیٹرول پمپ مالکان نے حکومتی پرائس ڈی ریگولیشن پالیسی مسترد کر دی روہت شرما کی ریٹائرمنٹ کی افواہیں، بی سی سی آئی برہم ورلڈ کپ: تیسری پوزیشن کے لیے فرانس اور انگلینڈ آمنے سامنے آسکر یافتہ آئرش اداکارہ برینڈا فریکر 81 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں انیل کپور نے مجھے اداکاری پر آمادہ کیا: دیا مرزا واٹس ایپ ہیکنگ روکنے کیلئے ایکشن پلان تیار واٹس ایپ ہیکنگ سے نمٹنے کیلئے خصوصی ہیلپ لائن قائم ہوگی
پاکستان خبر

افغانستان میں معاشی مشکلات برقرار، عوام نے حالات پر تشویش ظاہر کر دی

افغانستان میں معاشی مشکلات برقرار، عوام نے حالات پر تشویش ظاہر کر دی

کابل( مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان میں معاشی مشکلات بدستور برقرار ہیں اور متعدد شہری روزگار اور مہنگائی کے مسائل کے باعث پریشانی کا شکار ہیں۔افغانستان کے مقامی اخبار ہشت صبح کی رپورٹ کے مطابق کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ معاشی بہتری کے دعوے ان کی روزمرہ زندگی کی مشکلات سے مطابقت نہیں رکھتے اور بہت سے خاندان بنیادی ضروریات پوری کرنے میں بھی دشواری محسوس کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین پر عائد پابندیوں اور انہیں معاشی سرگرمیوں سے دور رکھنے کے باعث ملکی معیشت کو بھی منفی اثرات کا سامنا ہے۔ہشت صبح کے مطابق افغان مزدوروں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ معاشی ترقی کے دعووں کے ساتھ عوامی فلاح اور روزگار کے مواقع میں اضافے پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں روزگار کے مواقع محدود ہیں جبکہ بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے درکار سہولیات بھی ناکافی ہیں۔اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ ایچم سٹینر کے مطابق افغان خواتین کی معیشت میں فعال شرکت کے بغیر افغانستان کی پائیدار معاشی بحالی ممکن نہیں۔ مقامی میڈیا اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق افغانستان کو معاشی استحکام کے لیے وسیع اصلاحات اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔